حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 73 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 73

73 مسلمانوں کو نصیحت میں ہر ایک مسلمان کی خدمت میں نصیحت کہتا ہوں کہ اسلام کے لئے جاگو کہ اسلام سخت فتنہ میں پڑا ہے۔اس کی مدد کرو کہ اب یہ غریب ہے اور میں اس لئے آیا ہوں اور مجھے خدا تعالیٰ نے علم قرآن بخشا ہے اور حقائق معارف اپنی کتاب کے میرے پر کھولے ہیں اور خوارق مجھے عطا کئے ہیں سو میری طرف آؤ تا اس نعمت سے تم بھی حصہ پاؤ۔مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجا گیا ہوں۔کیا ضرور نہ تھا کہ ایسی عظیم الفتن صدی کے سر پر جس کی کھلی کھلی آفات ہیں ایک مجد د کھلے کھلے دعوی کے ساتھ آتا۔سو عنقریب میرے کاموں کے ساتھ تم مجھے شناخت کرو گے۔ہر ایک جو خدا تعالیٰ کی طرف سے آیا اس وقت کے علماء کی نا مجھی اس کی سد راہ ہوئی۔آخر جب وہ پہچانا گیا تو اپنے کاموں سے پہچانا گیا۔کہ تلخ درخت شیر میں پھل نہیں لاسکتا اور خدا غیر کو وہ برکتیں نہیں دیتا جو خاصوں کو دی جاتی ہیں۔اے لوگو!۔اسلام نہایت ضعیف ہو گیا ہے اور اعدائے دین کا چاروں طرف سے محاصرہ ہے۔اور تین ہزار سے زیادہ مجموعہ اعتراضات کا ہو گیا ہے۔ایسے وقت میں ہمدردی سے اپنا ایمان دکھاؤ۔اور مردان خدا میں جگہ پاؤ۔والسلام علیٰ من اتبع لهدى حقیقی تجدید دین بركات الدعا۔رخ جلد 6 صفحه 37-36) صرف رسمی اور ظاہری طور پر قرآن شریف کے تراجم پھیلانا یا فقط کتب دینیہ اور احادیث نبویہ کو اردویا فارسی میں ترجمہ کر کے رواج دینا یا بدعات سے بھرے ہوئے خشک طریقے جیسے زمانہ حال کے اکثر مشائخ کا دستور ہورہا ہے سکھلانا یہ امور ایسے نہیں ہیں جن کو کامل اور واقعی طور پر تجدید دین کہا جائے بلکہ مؤخرالذکر تو شیطانی راہوں کی تجدید ہے اور دین کا رہزن۔قرآن شریف اور احادیث صحیحہ کو دنیا میں پھیلانا بے شک عمدہ طریق ہے مگر رسمی طور پر اور تکلف اور فکر اور خوض سے یہ کام کرنا اور اپنا نفس واقعی طور پر حدیث اور قرآن کا مورد نہ ہونا ایسی ظاہری اور بے مغز خدمتیں ہر ایک با علم آدمی کر سکتا ہے اور ہمیشہ جاری ہیں ان کو مجد دیت سے کچھ علاقہ نہیں یہ تمام امور خدا تعالیٰ کے نزدیک فقط استخوان فروشی ہے اس سے بڑھکر نہیں اللہ جل شانہ فرماتا ہے لِمَ تَقُولُونَ مَالَا تَفْعَلُوْنَ كَبُرَ مَقْتًا عِنْدَ الله أَن تَقُولُوا مَالَا تَفْعَلُونَ (الصف:4،3) اور فرماتا ہے يَا أَيُّهَا الَّذِينَ امَنُوا عَلَيْكُمْ أَنفُسَكُمْ يَضُرُّ كُمْ مَّنْ ضَلَّ إِذَا اهْتَدَيْتُمْ (المائدة: 106)۔اندھا اندھے کو کیا راہ دکھا ویگا اور مجز وم دوسروں کے بدنوں کو کیا صاف کریگا تجدید دین وہ پاک کیفیت ہے کہ اول عاشقانہ جوش کے ساتھ اس پاک دل پر نازل ہوتی ہے کہ جو مکالمہ الہی کے درجہ تک پہنچ گیا ہو پھر دوسروں میں جلد یا دیر سے اسکی سرایت ہوتی ہے جو لوگ خدا تعالیٰ کی طرف سے مجددیت کی قوت پاتے ہیں وہ نرے استخوان فروش نہیں ہوتے بلکہ وہ واقعی طور پر نائب رسول اللہ ے اور روحانی طور پر آنجناب کے خلیفہ ہوتے ہیں خدا تعالیٰ انہیں ان تمام نعمتوں کا وارث بناتا ہے جو نبیوں اور رسولوں کو دی جاتی ہیں اور ان کی باتیں از قبیل جوشیدن ہوتی ہیں نہ محض از قبیل پوشیدن اور وہ حال سے بولتے ہیں نہ مجرد قال سے اور خدا تعالیٰ کے الہام کی مجتبی اُنکے دلوں پر ہوتی ہے اور وہ ہر ایک مشکل کے وقت روح القدس سے سکھلائے جاتے ہیں اور انکی گفتار اور کردار میں دنیا پرستی کی ملوٹی نہیں ہوتی کیونکہ وہ بکلی مصفا کئے گئے اور تمام و کمال کھینچے گئے ہیں۔منہ۔(فتح اسلام - رخ جلد 3 صفحہ 6-7 حاشیہ)