حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 72 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 72

72 دعوی مجددیت حضرت اقدس خدا تعالیٰ نے مجھے چودھویں صدی کے سر پر اس تجدید ایمان اور معرفت کے لئے مبعوث فرمایا ہے اور اس کی تائید اور فضل سے میرے ہاتھ پر آسمانی نشان ظاہر ہوتے ہیں اور اس کے ارادہ اور مصلحت کے موافق دُعائیں قبول ہوتی ہیں اور غیب کی باتیں بتلائی جاتی ہیں۔اور حقائق اور معارف قرآنی بیان فرمائے جاتے اور شریعت کے معضلات و مشکلات حل کئے جاتے ہیں اور مجھے اس خدائے کریم و عزیز کی قسم ہے جو جھوٹ کا دشمن اور مفتری کا نیست و نابود کرنے والا ہے کہ میں اُس کی طرف سے ہوں اور اس کے بھیجنے سے عین وقت پر آیا ہوں اور اس کے حکم سے کھڑا ہوا ہوں۔اور وہ میرے ہر قدم میں میرے ساتھ ہے۔اور وہ مجھے ضائع نہیں کرے گا اور نہ میری جماعت کو تباہی میں ڈالیگا جب تک وہ اپنا تمام کام پورا نہ کرلے جس کا اُس نے ارادہ فرمایا ہے۔اُس نے مجھے چودھویں صدی کے سر پر تکمیل نور کے لئے مامور فرمایا۔اربعین نمبر 2 - رخ جلد 17 صفحہ 348) بخدمت امراء ور یکسان و منعمان ذی مقدرت و والیان ارباب حکومت و منزلت بسم اللہ الرحمن الرحیم محمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم ( برکات الدعا۔رخ جلد 6 صفحہ 34) اے بزرگان اسلام ! خدا تعالیٰ آپ لوگوں کے دلوں میں تمام فرقوں سے بڑھ کر نیک ارادے پیدا کرے اور اس نازک وقت میں آپ لوگوں کو اپنے پیارے دین کا سچا خادم بناوے۔میں اس وقت محض اللہ اس ضروری امر سے اطلاع دیتا ہوں کہ مجھے خدا تعالیٰ نے چودھوں صدی کے سر پر اپنی طرف سے مامور کر کے دین متین اسلام کی تجدید اور تائید کے لئے بھیجا ہے تا کہ میں اس پر آشوب زمانہ میں قرآن کی خوبیاں اور حضرت رسول اللہ ﷺ کی عظمتیں ظاہر کروں اور ان تمام دشمنوں کو جو اسلام پر حملہ کر رہے ہیں ان نوروں اور برکات اور خوارق اور علوم لدنیہ کی مدد سے جواب دوں جو مجھ کو عطا کئے گئے ہیں۔سو میں ان ہی باتوں کا مجد دہوں اور یہی کام ہیں جن کے لئے میں بھیجا گیا ہوں۔اور منجملہ ان اُمور کے جو میرے مامور ہونے کی علت غائی ہیں مسلمانوں کے ایمان کو قوی کرتا ہے۔اور انکو خدا اور اسکی کتاب اور اسکے رسول کی نسبت ایک تازہ یقین بخشنا۔اور یہ طریق ایمان کے تقویت کا دوطور سے میرے ہاتھ سے ظہور میں آیا ہے۔اول قرآن شریف کی تعلیم کی خوبیاں کرنی اور اسکے اعجازی حقائق اور معارف اور انوار اور برکات کو ظاہر کرنے سے جن سے قرآن شریف کا منجانب اللہ ہونا ثابت ہوتا ہے۔چنانچہ میری کتابوں کو دیکھنے والے اس بات کی گواہی دے سکتے ہیں کہ وہ کتابیں قرآن شریف کے عجائب اسرار اور نکات سے پر ہیں اور ہمیشہ یہ سلسلہ جاری ہے اور اس میں کچھ شک نہیں کہ جسقد ر مسلمانوں کا علم قرآن شریف کی نسبت ترقی کریگا اسیقد رانکا ایمان بھی ترقی پذیر ہوگا۔اور دوسرا طریق جو مسلمانوں کا ایمان قوی کرنے کے لئے مجھے عطا کیا گیا ہے تائیدات سماوی اور دعاؤں کا قبول ہونا اور نشانوں کا ظاہر ہونا ہے۔چنانچہ اب تک جو نشان ظاہر ہو چکے ہیں وہ اس کثرت سے ہیں جن کے قبول کرنے سے کسی منصف کو گریز کی جگہ نہیں۔(کتاب البریہ - رخ جلد 13 صفحہ 294 تا 297 حاشیہ )