حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 68 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 68

68 حضرت اقدس قرآن کریم کے حقیقی معانی اور منشاء کو ظاہر کرنے کیلئے مبعوث ہوئے ہیں وَلَقَدْ جِئْتُهُمْ بِكِتَب فَصَّلْتُهُ عَلى عِلْمٍ هُدًى وَرَحْمَةٌ لِقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ 0 (الاعراف: 53) فَصَّلْنَهُ عَلَى عِلْمٍ۔وہ ( قرآن کریم مفصل کتاب ے۔عظمتیں اور خوبیاں کہ جو قرآن کریم کی نسبت بیان فرمائی گئیں احادیث کی نسبت ایسی تعریفوں کا کہاں ذکر ہے؟ پس میرا مذہب فرقہ ضالہ نیچریہ" کی طرح یہ نہیں ہے کہ میں عقل کو مقدم رکھ کر قال اللہ اور قال الرسول پر کچھ نکتہ چینی کروں۔ایسے نکتہ چینی کرنے والوں کوملحد اور دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہوں۔بلکہ میں جو کچھ آنحضرت ﷺ نے خدا تعالیٰ کی طرف سے ہم کو پہنچایا ہے اس سب پر ایمان لاتا ہوں۔صرف عاجزی اور انکسار کے ساتھ یہ کہتا ہوں کہ قرآن کریم ہر یک وجہ سے احادیث پر مقدم ہے اور احادیث کی صحت و عدم پر کھنے کے لئے وہ محک ہے اور مجھ کو خدا تعالیٰ نے قرآن کریم کی اشاعت کے لئے مامور کیا ہے تا میں جو ٹھیک ٹھیک منشاء قرآن کریم کا ہے لوگوں پر ظاہر کروں۔الحق مباحثہ لدھیانہ رخ جلد 4 صفحہ 30) الہام حضرت اقدس يَا أَحْمَدُ بَارَكَ اللهُ فِيكَ - مَا رَمَيْتَ إِذْرَمَيْتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى الرَّحْمَنُ عَلَّمَ الْقُرْآنَ لِتُنذِرَ قَوْمًا مَا نَذِرَابَاءُ هُمْ وَلِتَسْتَبِينَ سَبِيلُ الْمُجْرِمِينَ - قُلْ إِنِّي أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُؤْمِنِيْنَ ) یعنی اے احمد ! خدا نے تجھ میں برکت رکھ دی۔جو کچھ تو نے چلایا تو نے نہیں چلایا بلکہ خدا نے چلایا۔وہ خدا ہے جس نے تجھے قرآن سکھلایا یعنی اس کے حقیقی معنوں پر تجھے اطلاع دی تا کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جن کے باپ دادے نہیں ڈرائے گئے۔اور تا کہ مجرموں کی راہ کھل جائے اور تیرے انکار کی وجہ سے ان پر تجت پوری ہو جائے۔ان لوگوں کو کہدے کہ میں خدا کی طرف سے مامور ہو کر آیا ہوں اور میں وہ ہوں جو سب سے پہلے ایمان لایا۔(براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 66) 0 خدائے تعالیٰ نے اس غرض سے اس عاجز کو بھیجا ہے کہ تاروحانی طور پر مردے زندہ کئے جائیں۔بہروں کے کان کھولے جائیں اور مجز وموں کو صاف کیا جائے اور جو قبروں میں نہیں باہر نکالے جائیں اور نیز یہ بھی وجہ مماثلت ہے کہ جیسے مسیح ابن مریم نے انجیل میں توریت کا صحیح خلاصہ اور مغز اصلی پیش کیا تھا اسی کام کے لئے یہ عاجز مامور ہے تا غافلوں کے سمجھانے کے لئے قرآن شریف کی اصلی تعلیم پیش کی جائے مسیح صرف اس کام کیلئے آیا تھا کہ توریت کے احکام شد ومد کے ساتھ ظاہر کرے۔ایسا ہی یہ عاجز بھی اسی کام کیلئے بھیجا گیا ہے کہ تا قرآن شریف کے احکام بہ وضاحت بیان کر دیوے۔فرق صرف اتنا ہے کہ وہ مسیح موسیٰ کو دیا گیا تھا اور یہ مسیح مثیل موسیٰ کو عطا کیا گیا۔(ازالہ اوہام۔رخ جلد 3 صفحہ 103) حضرت مسیح موعود علیہ السلام : عام لوگ جو بیان کرتے ہیں یہ منشا قرآن کریم کا ہرگز نہیں ہے اور اس سے لوگوں کو دھوکا لگا ہے۔محمد عبدالحق صاحب: اسلام کے عقائد ہم تک عیسائیوں کے ذریعہ پہنچے ہیں اور اسلام کا اصل چہرہ دیکھنے کے واسطے میں باہر نکلا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ خدا کا بڑا فضل ہے اور خوش قسمتی آپ کی ہے کہ آپ ادھر آ نکلے۔یہ بات واقعی سچ ہے کہ جو مسلمان ہیں یہ قرآن شریف کو بالکل نہیں سمجھتے لیکن اب خدا کا ارادہ ہے کہ تیج معنی قرآن کے ظاہر کرے خدا نے مجھے اسی لئے مامور کیا ہے اور میں اس کے الہام اور وحی سے قرآن شریف کو سمجھتا ہوں۔(ملفوظات۔جلد سوم صفحہ 450)