حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 63 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 63

63 63 گفت پیغم ستو وہ صفات ستو وہ صفات پیغمبر نے غیب دان بر سر ہر از خدائے مخفیات علیم خدا سے علم پاکر کہا ہے صدی برون آید آنکه این کار را ہے شاید کہ ہر صدی کے سر پر ایک ایسا شخص ظاہر ہوتا ہے جو اس کام کے لائق ہوتا ہے شود پاک ملت از بدعات تا بیابند خلق زو بركات تاکہ مذہب بدعات سے پاک ہو جائے اور مخلوق اس سے برکتیں حاصل کرے الغرض ذاتِ اولیا ئے کرام بست مخصوص ملت اسلام خلاصہ کلام یہ کہ اولیائے کرام کی ذات مذہب اسلام کے ساتھ مخصوص ہے در ثمین فارسی نیا ایڈیشن صفحہ 51152) (براہین احمدیہ۔رخ جلد 1 صفحہ 362) کیا ہزاروں مولوی ایسے نہیں ہیں جو بڑے بڑے علوم عربیہ کی تحصیل کر چکے ہیں مگر پھر بھی وہ اس سلسلہ حقہ کی مخالفت کرتے ہیں اور وہ علوم ان کے واسطے اور بھی زیادہ حجاب کا موجب ہو رہے ہیں۔ہزاروں مولوی ہیں جو بجز گالیاں دینے کے اور کچھ کام نہیں رکھتے۔بے شک معارف قرآنی کا ذخیرہ سب عربی میں ہے تاہم جب ایک مدت گذر جاتی ہے اور خدا کے ایک رسول کو بہت زمانہ گذر جاتا ہے تب لوگوں کے ہاتھ میں صرف الفاظ ہی رہ جاتے ہیں۔جن کے معانی اور معارف کسی پر نہیں کھل سکتے جب تک کہ اللہ تعالیٰ ان کے واسطے کوئی چابی پیدا نہ کر دے۔جب خدا کی طرف سے راہ کھلتا ہے تب کوئی منور قلب والا زندہ دل پیدا کیا جاتا ہے۔وہ صاحب حال ہوتا ہے اس واسطے اس کی تفسیر درست ہوتی ہے زندہ دل کے سوا کچھ نہیں۔یہ باتیں سیدھی ہیں مگر افسوس ہے کہ ان لوگوں کو سمجھ نہیں آتی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 277) اسلام ایک زندہ مذہب ہے۔اسلام کا خداحتی و قیوم خدا ہے پھر وہ مردوں سے پیار کیوں کر نے لگا۔وہ جی و قیوم خدا بار بار مردوں کو جلاتا ہے۔يُحْيِي الْاَرْضَ بَعْدَمَوْتِهَا (الحديد:18) تو کیا مردوں کے ساتھ تعلق پیدا کرا کر جلاتا ہے۔نہیں۔ہرگز نہیں۔اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی حی و قیوم خدا نے إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ (الحجر: 10) کہہ کر اٹھایا ہوا ہے۔پس ہر زمانہ میں یہ دین زندوں سے زندگی پاتا ہے۔اور مردوں کو جلاتا ہے۔یادرکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں۔پھر فرمایا ثُمَّ فُصِّلَتْ۔ایک تو وہ تفصیل ہے جو قرآن کریم میں ہے۔دوسری یہ کہ قرآن کریم کے معارف و حقائق کے اظہار کا سلسلہ قیامت تک دراز کیا گیا ہے۔ہر زمانہ میں نئے معارف اور اسرار ظاہر ہوتے ہیں۔فلسفی اپنے رنگ میں طبیب اپنے مذاق پر۔صوفی اپنے طرز پر بیان کرتے ہیں۔اور پھر یہ تفصیل بھی حکیم وخبیر خدا نے رکھی ہے۔حکیم اس کو کہتے ہیں کہ جن چیزوں کا علم مطلوب ہو وہ کامل طور پر ہوا اور پھر عمل بھی کامل ہوا ایسا کہ ہر ایک چیز کو اپنے اپنے محل و موقع پر رکھ سکے۔حکمت کے معانی وَضعُ الشَّيْ فِي مَحَلَّه اور خیر مبالغہ کا صیغہ ہے یعنی ایسا وسیع علم کہ کوئی چیز اس کی خبر سے باہر نہیں چونکہ اللہ تعالی نے اس کتاب مجید کو خاتم الکتب ٹھہرایا تھا اور اس کا زمانہ قیامت تک دراز تھا۔وہ خوب جانتا تھا کہ کس طرح پر یہ تعلیمیں ذہن نشین کرنی چاہیں۔چنانچہ اس کے مطابق تفاصیل کی ہیں۔پھر اسکا سلسلہ جاری رکھا کہ جو مجدد و مصلح احیاء دین کے لئے آتے ہیں وہ خود مفصل آتے ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 346)