حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 62 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 62

62 صحابہ رضی اللہ عنہم کے زمانہ میں تو یقین کے چشمے جاری تھے اور وہ خدائی نشانوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھتے تھے اور انہیں نشانوں کے ذریعہ سے خدا کی کلام پر انہیں یقین ہو گیا تھا اس لئے ان کی زندگی نہایت پاک ہوگئی تھی لیکن بعد میں جب وہ زمانہ جاتارہا اور اس زمانہ پر صد ہا سال گذر گئے تو پھر ذریعہ یقین کا کونسا تھا۔سچ ہے کہ قرآن شریف ان کے پاس تھا اور قرآن شریف اس ذوالفقار تلوار کی مانند ہے جس کے دو طرف دھاریں ہیں۔ایک طرف کی دھار مومنوں کی اندرونی غلاظت کو کاٹتی ہے اور دوسری طرف کی دھار دشمنوں کا کام تمام کرتی ہے مگر پھر بھی وہ تلوار اس کام کے لئے ایک بہادر کے دست و بازو کی محتاج ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: يَتْلُوا عَلَيْهِمْ اللَّهِ وَيُزَكِّيْهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَبَ (الجمعة: 3)۔پس قرآن سے جوتز کیہ حاصل ہوتا ہے اس کو اکیلا بیان نہیں کیا بلکہ وہ نبی کی صفت میں داخل کر کے بیان کیا۔یہی وجہ ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام یوں ہی آسمان پر سے کبھی نازل نہیں ہوا بلکہ اس تلوار کو چلانے والا بہادر ہمیشہ ساتھ آیا ہے جو اس تلوار کا اصل جوہر شناس ہے۔لہذا قرآن شریف پر سچا اور تازہ یقین دلانے کے لئے اور اس کے جوہر دکھانے کے لئے اور اس کے ذریعہ سے اتمام حجت کرنے کے لئے ایک بہادر کے دست بازو کی ہمیشہ حاجت ہوتی رہی ہے اور آخری زمانہ میں یہ حاجت سب سے زیادہ پیش آئی کیونکہ دجالی زمانہ ہے اور زمین و آسمان کی باہمی لڑائی ہے۔( نزول ایچ۔رخ جلد 18 صفحہ 468-469) وَقَالُوْا إِلَى الْمُوْعُوْدِ لَيْسَ بِحَاجَةٍ فَإِنَّ كِتَابَ اللَّهِ يَهْدِى وَيُخْبِرُ وَمَاهِيَ إِلَّا بِالْغُيُورِ دُعَابَةٌ فَيَا عَجَبًا مَّنْ فِطْرَةٍ تَتَهَوَّرُ وَقَدْ جَاءَ قَوْلُ اللَّهِ بِالرُّسُلِ تَوَأَما وَمِنْ دُونِهِمْ فَهُمُ الْهُدَىٰ مُتَعَسَّرُ فَإِنَّ ظُبَى الاسْيَانِ تَحْتَاجُ دَائِمًا إِلَىٰ سَاعِدٍ يُجْرِي الدَّمَاءَ وَيُنْدِرُ بِغَضَبٍ رَّقِيقِ الشَّفْرَتَيْنِ هَزِيمَةٌ إِذَا نَا شَهُ طِفْلُ ضَعِيفَ مُحَقِّرُ اور انہوں نے کہا کہ مسیح موعود کی طرف کچھ حاجت نہیں۔کیونکہ اللہ کی کتاب ہدایت دیتی اور خبر دیتی ہے اور یہ تو خدائے غیور کے ساتھ ہنسی ٹھٹھا ہے۔پس ایسی بیباک فطر توں پر تعجب آتا ہے اور اصل حقیقت یہ ہے کہ خدا کا کلام اور رسول یا ہم توام ہیں۔اور ان کے بغیر خدا کے کلام کا سمجھنا مشکل ہے کیونکہ تلواروں کی دھار ہمیشہ ایسے بازو کی طرف محتاج ہے۔جو خون کو جاری کرتا اور سر کو بدن سے الگ کر دیتا ہے۔تلوار گو باریک دھاریں رکھتی ہو مگر تب بھی شکست ہوگی جبکہ اس کو کمز ور اور حقیر بچہ ہاتھ میں پکڑے گا۔(اعجاز احمدی قصیدہ اعجاز یہ رخ جلد19 صفحہ 173) ہر زمانہ میں نئے معلم قرآن کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر قرآن کے سیکھنے کے لئے معلم کی حاجت نہ ہوتی تو ابتدائے زمانہ میں بین ہوئی۔اور یہ کہنا کہ ابتدا میں توحل مشکلات قرآن کے لئے ایک معلم کی ضرورت تھی لیکن جب حل ہو گئیں تو اب کیا ضرورت ہے۔اس کا جواب یہ ہے، کہ حل شدہ بھی ایک مدت کے بعد پھر قابل حل ہو جاتی ہیں ماسوا اسکے امت کو ہر ایک زمانہ میں نئی مشکلات بھی تو پیش آتی ہیں اور قرآن جامع جمیع علوم تو ہے لیکن یہ ضروری نہیں کہ ایک ہی زمانہ میں اس کے تمام علوم ظاہر ہو جائیں بلکہ جیسی جیسی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے ویسے ویسے قرآنی علوم کھلتے ہیں اور ہر یک زمانہ کی مشکلات کے مناسب حال ان مشکلات کو حل کرنے والے روحانی معہ جاتے ہیں جو وارث رسل ہوتے ہیں اور ظلی طور پر رسولوں کے کمالات کو پاتے ہیں اور جس مجدد کی کاروائیاں کسی ایک رسول کی منصبی کاروائیوں سے شدید مشابہت رکھتی ہیں وہ عنداللہ اسی رسول کے نام سے پکارا جاتا ہے۔(شہادت القرآن۔۔۔خ جلد 6 صفحہ 348)