حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 64
64 معلم قرآن عملی نمونہ پیش کرنے کی غرض سے اب نئے معلموں کی اس وجہ سے بھی ضرورت پڑتی ہے کہ بعض حصے تعلیم قرآن شریف کے از قبیل حال ہیں نہ از قبیل قال اور آنحضرت ﷺ نے جو پہلے معلم اور اصل وارث اس تخت کے ہیں حالی طور پر ان دقائق کو اپنے صحابہ کو سمجھایا ہے مثلا خدا تعالیٰ کا کہنا میں عالم الغیب ہوں اور میں مجیب الدعوات ہوں اور میں قادر ہوں اور میں دعاؤں کو قبول کرتا ہوں اور طالبوں کو حقیقی روشنی تک پہنچاتا ہوں اور میں اپنے صادق بندوں کو الہام دیتا ہوں اور جس پر چاہتا ہوں اپنے بندوں میں سے اپنی روح ڈالتا ہوں یہ تمام باتیں ایسی ہیں کہ جب تک معلم خود ان کا نمونہ بن کر نہ دکھلا دے تب تک یہ کسی طرح سمجھ ہی نہیں آسکتیں پس ظاہر ہے کہ صرف ظاہری علما ء خودا ندھے ہیں ان تعلیمات کو سمجھا نہیں سکتے بلکہ وہ تو اپنے شاگردوں کو ہر وقت اسلام کی عظمت سے بدظن کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ باتیں آگے نہیں بلکہ پیچھے رہ گئی ہیں اور ان کے ایسے بیانات سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ گویا اسلام اب زندہ مذہب نہیں اور اس کی حقیقی تعلیم پانے کے لئے اب کوئی بھی راہ نہیں رہی۔لیکن ظاہر ہے کہ اگر خدا تعالی کا اپنی مخلوق کے لئے یہ ارادہ ہے کہ وہ ہمیشہ قرآن کریم کے چشمہ سے ان کو پانی پلا دے تو بے شک وہ اپنے ان قوانین قدیمہ کی رعائیت کرئے گا جو قدیم سے کرتا آیا ہے۔اور اگر قرآن کی تعلیم اسی حد تک محدود ہے۔جس حد تک ایک تجربہ کار اور لطیف الفکر فلاسفر کی تعلیم محدود ہو سکتی ہے اور آسمانی تعلیم جو محض حال کے نمونہ سے سمجھائی جاتی ہے اس میں نہیں تو پھر نعوذ باید قرآن کا آنالا حاصل ہے۔مگر میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی ایک دم کے واسطے بھی اس مسئلہ میں فکر کرے کہ انبیا کی تعلیم اور حکیموں کی تعلیم میں بصورت فرض کرنے صحت ہر دو تعلیم کے مابہ الامتیاز کیا ہے تو بجز اس کے اور کوئی ما بہ الامتیا ز قرار نہیں دے سکتا کہ انبیا کی تعلیم کا بہت سا حصہ فوق العقل ہے جو بجز حالی تفہیم اور تعلیم کے اور کسی راہ سے سمجھ ہی نہیں آسکتا۔اور اس حصہ کو وہی لوگ دلنشین کراسکتے ہیں جو صاحب حال ہوں مثلاً ایسے ایسے مسائل کہ اس طرح پر فرشتے جان نکالتے ہیں اور پھر یوں آسمان پر لے جاتے ہیں۔اور پھر قبر میں حساب اس طور پر ہوتا ہے اور بہشت ایسا ہے اور دوزخ ایسا۔اور پل صراط ایسا۔اور عرش اللہ کو چار فرشتے اٹھا رہے ہیں اور پھر قیامت کو آٹھا اٹھائیں گے اور اسطرح پر خدا اپنے بندوں پر وحی نازل کرتا ہے۔یا مکاشفات کا دروازہ ان پر کھولتا ہے۔یہ تمام حالی تعلیم ہے۔اور مجرد قیل و قال سے سمجھ نہیں آسکتی اور جبکہ یہ حال ہے۔تو پھر میں دوبارہ کہتا ہوں۔کہ اگر اللہ جلشانہ نے اپنے بندوں کے لئے یہ ارادہ فرمایا ہے۔کہ اس کی کتاب کا یہ حصہ تعلیم ابتدائی زمانہ پر محدود نہ رہے۔تو بے شک اس نے یہ بھی انتظام کیا ہوگا کہ اس حصہ کی تعلیم کے معلم بھی ہمیشہ آتے رہیں کیونکہ حصہ حالی تعلیم کا بغیر تو سط ان معلموں کے جو مرتبہ حال پر پہنچ گئے ہوں ہرگز سمجھ نہیں آسکتا اور دنیا ذری ذری بات پر ٹھوکر میں کھاتی ہے پس اگر اسلام میں بعد آنحضرت ﷺ ایسے معلم نہیں آئے جن میں ظلمی طور پر نور نبوت تھا تو گویا خدا تعالی نے عمدا قرآن کو ضائع کیا کہ اس کے حقیقی اور واقعی طور پر سمجھنے والے بہت جلد دنیا سے اٹھا لئے مگر یہ بات اس کے وعدہ کے برخلاف ہے، جیسا کہ وہ فرماتا ہے۔إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّالَهُ لَحَافِظُونَ - (الحجر: 10) یعنی ہم نے ہی قرآن اتارا ہے اور ہم ہی اسکی حفاظت کرتے رہیں گے۔شہادت القرآن۔رخ جلد 6 صفحہ 348 تا 350)