حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 872
872 دعا اسم اعظم ہے دعا کرنا اور کرانا اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے۔دعا کے لئے جب درد سے دل بھر جاتا ہے اور سارے حجابوں کو توڑ دیتا ہے اس وقت سمجھنا چاہیئے کہ دعا قبول ہو گئی۔یہ اسم اعظم ہے۔اس کے سامنے کوئی انہونی چیز نہیں ہے۔ایک خبیث کے لئے جب دعا کے ایسے اسباب میسر آجائیں تو یقیناً وہ صالح ہو جاوے اور بغیر دعا کے وہ اپنی تو بہ پر بھی قائم نہیں رہ سکتا۔بیمار اور مجوب اپنی دستگیری آپ نہیں کر سکتا۔سنت اللہ کے موافق یہی ہوتا ہے کہ جب دعائیں انتہا تک پہنچتی ہیں تو ایک شعلہ نور کا اس کے دل پر گرتا ہے جو اس کی خباثتوں کو جلا کر تار یکی دور کر دیتا ہے اور اندر ایک روشنی پیدا کر دیتا ہے کہ یہ طریق استجابت دعا کا رکھتا ہے۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 100) سب دعائیں قبول نہیں ہوتیں یہ خیال کہ مقبولین کی ہر ایک دعا قبول ہو جاتی ہے یہ سراسر غلط ہے بلکہ حق بات یہ ہے کہ مقبولین کے ساتھ خدا تعالیٰ کا دوستانہ معاملہ ہے کبھی وہ ان کی دعائیں قبول کر لیتا ہے اور کبھی وہ اپنی مشیت ان سے منوانا چاہتا ہے جیسا کہ تم دیکھتے ہو کہ دوستی میں ایسا ہی ہوتا ہے بعض وقت ایک دوست اپنے دوست کی بات کو مانتا ہے اور اسکی مرضی کے موافق کام کرتا ہے اور پھر دوسرا وقت ایسا بھی آتا ہے کہ اپنی بات اس سے منوانا چاہتا ہے اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ ایک جگہ قرآن شریف میں مومنوں کی استجابت دعا کا وعدہ کرتا ہے اور فرماتا ہے اُدْعُونِي اَسْتَجِبْ لَكُم ( المومن: 61) یعنی تم مجھ سے دعا کرو میں تمہاری دعا قبول کروں گا اور دوسری جگہ اپنی نازل کردہ قضا و قدر پر خوش اور راضی رہنے کی تعلیم کرتا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ (البقرة : 156) (حقیقۃ الوحی۔ر۔خ۔جلد22 صفحہ 21) دعا مسلمانوں کا فخر ہے دوسرا طریق حقیقی پاکیزگی کے حاصل کرنے اور خاتمہ بالخیر کے لئے جو خدا تعالیٰ نے سکھایا ہے وہ دعا ہے اس لئے جس قدر ہو سکے دعا کرو یہ طریق بھی اعلیٰ درجہ کا مجرب اور مفید ہے کیونکہ خدا تعالیٰ نے خود وعدہ فرمایا ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ (المومن: 61) تم مجھ سے دعا کرو میں تمہارے لئے قبول کروں گا۔دعا ہی ایک ایسی چیز ہے جس کے ساتھ مسلمانوں کو فخر کرنا چاہیئے۔دوسری قوموں کو دعا کی کوئی قدر نہیں اور نہ انہیں اس پاک طریق پر کوئی فخر اور ناز ہو سکتا ہے۔بلکہ یہ فخر اور ناز صرف صرف اسلام ہی کو ہے۔دوسرے مذاہب اس سے بکلی بے بہرہ ہیں۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 202)