حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 871
871 ہماری جماعت کو چاہئے کہ راتوں کو رو رو کر دعائیں کریں۔اس کا وعدہ ہے ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ۔عام لوگ یہی سمجھتے ہیں کہ دعا سے مراد دنیا کی دعا ہے۔وہ دنیا کے کیڑے ہیں اس لئے اس سے پرے نہیں جاسکتے اصل دعا دین ہی کی دعا ہے لیکن یہ مت سمجھو کہ ہم گنہ گار ہیں یہ دعا کیا ہوگی اور ہماری تبدیلی کیسے ہو سکے گی یہ غلطی ہے بعض وقت انسان خطاؤں کے ساتھ ہی ان پر غالب آ سکتا ہے اس لئے کہ اصل فطرت میں پاکیزگی ہے دیکھو پانی خواہ کیسا ہی گرم ہو لیکن جب وہ آگ پر ڈالا جاتا ہے تو وہ بہر حال آگ کو بجھا دیتا ہے اس لئے کہ فطرتا برودت اس میں ہے۔ٹھیک اسی طرح پر انسان کی فطرت میں پاکیزگی ہے۔ہر ایک میں یہ مادہ موجود ہے۔وہ پاکیزگی کہیں نہیں گئی۔اسی طرح تمہاری طبیعتوں میں خواہ کیسے ہی جذبات ہوں رو کر دعا کرو گے تو اللہ تعالیٰ دور کر دے گا۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 133-132) دعا کی عظمت وہ جو عرب کے بیابانی ملک میں ایک عجیب ماجرا گذرا کہ لاکھوں مردے تھوڑے دنوں میں زندہ ہو گئے اور پشتوں کے بگڑے ہوئے الہی رنگ پکڑ گئے اور آنکھوں کے اندھے بینا ہوئے اور گونگوں کی زبان پر الہی معارف جاری ہوئے اور دنیا میں ایک دفعہ ایسا انقلاب پیدا ہوا کہ نہ پہلے اس سے کسی آنکھ نے دیکھا اور نہ کسی کان نے سنا۔کچھ جانتے ہو کہ وہ کیا تھا۔وہ ایک فانی فی اللہ کی اندھیری راتوں کی دعائیں ہی تھیں جنہوں نے دنیا میں شور مچادیا اور وہ عجائب باتیں دکھلائیں کہ جو اس امی بیکس سے محالات کی طرح نظر آتی تھیں۔اللھم صَلِّ وَسَلّمْ وَبَارِكْ عَلَيْهِ وَ الِهِ بِعَدَدِ هَمِّهِ وَ غَمِهِ وَ حُزْنِهِ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ وَاَنْزِلْ عَلَيْهِ أَنْوَارَ رَحْمَتِكَ إِلَى الْأَبَدِ اور میں اپنے ذاتی تجربہ سے بھی دیکھ رہا ہوں کہ دعاؤں کی تاثیر آب و آتش کی تاثیر سے بھی بڑھ کر ہے۔بلکہ اسباب طبیعہ کے سلسلہ میں کوئی چیز ایسی عظیم الا خیر نہیں جیسی کہ دعا ہے۔“ بركات الدعا- ر- خ - جلد 6 صفحہ 10-11) قرآن شریف سے جو عقیدہ نجات کے بارے میں استنباط ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ نجات نہ تو صوم سے ہے نہ صلوۃ سے نہ زکوۃ اور نہ صدقات سے بلکہ محض دعا اور خدا کے فضل سے ہے اسی لیے خدا تعالی نے دعا اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ تعلیم فرمائی ہے کہ جب وہ قبول ہو کر خدا تعالی کے فضل کو جذب کرتی ہے اعمال صالحہ اس کے ساتھ شرائط ہیں مگر لوازم میں سے نہیں یعنی جب انسان کی دعا قبول ہوتی ہے تو اس کے ساتھ تمام شرائط خود ہی مرتب ہوتی ہیں ورنہ اگر اعمال پر نجات کا مدار رکھا جائے تو یہ بار یک شرک ہے اور اس سے ثابت ہو گا کہ انسان خود بخود نجات پاسکتا ہے کیونکہ اعمال تو انسان کے اختیاری امور ہیں اور انسان خود بخو داسے بجالاتے ہیں۔دعا جب تمام شرائط کے ساتھ ہوتی ہے تو وہ فضل کو جذب کرتی ہے اور فضل کے بعد شرائط خود بخود پورے ہوتے جاتے ہیں اسلامی نجات یہی ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 389-388)