حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 859 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 859

859 آٹھویں فصل آداب عبادات أَلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا اللَّهَ إِنَّنِى لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَّ بَشِيرٌ۔(هود:3) ایک عجیب بات سوال مقدر کے جواب کے طور پر بیان کی گئی ہے۔یعنی اس قدر تفاصیل جو بیان کی جاتی ہیں ان کا خلاصہ اور مغز کیا ہے؟ إِلَّا تَعْبُدُوا إِلَّا الله خدا تعالیٰ کے سوا ہر گز ہرگز کسی کی پرستش نہ کرو۔اصل بات یہ ہے کہ انسان کی پیدائش کی علت غائی یہی عبادت ہے۔جیسے دوسری جگہ فرمایا ہے وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (الدريت : 57) عبادات اصل میں اس کو کہتے ہیں کہ انسان ہر قسم کی قساوت۔کبھی کو دور کر کے دل کی زمین کو ایسا صاف بنادے جیسے زمیندار زمین کو صاف کرتا ہے۔عرب کہتے ہیں مورٌ مُّعَبَّد جیسے سرمہ کو باریک کر کے آنکھوں میں ڈالنے کے قابل بنا لیتے ہیں اسی طرح جب دل کی زمین میں کوئی کنکر۔پتھر۔ناہمواری نہ رہے اور ایسی صاف ہو کہ گویا روح ہی روح ہو اس کا نام عبادت ہے۔چنانچہ اگر یہ درستی اور صفائی آئینہ کی کی جاوے تو اس میں شکل نظر آ جاتی ہے اور اگر زمین کی کی جاوے تو اس میں انواع واقسام کے پھل پیدا ہو جاتے ہیں۔پس انسان جو عبادت کے لئے پیدا کیا گیا ہے اگر دل صاف کرے اور اس میں کسی قسم کی کبھی اور ناہمواری۔کنکر پتھر نہ رہنے دے تو اس میں خدا نظر آئے گا۔میں پھر کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کے درخت اس میں پیدا ہو کر نشو ونما پائیں گے اور وہ اثمار شیر میں وطیب ان میں لگیں گے جو اُكُلُهَا دَائِم (الرعد: 36) کے مصداق ہوں گے۔یادرکھو کہ یہ وہی مقام ہے جہاں صوفیوں کے سلوک کا خاتمہ ہے۔جب سالک یہاں پہنچتا ہے تو خدا ہی خدا کا جلوہ دیکھتا ہے۔اس کا دل عرش الہی بنتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس پر نزول فرماتا ہے۔سلوک کی تمام منزلیں یہاں آ کر ختم ہو جاتی ہیں کہ انسان کی حالت تعبد درست ہو جس میں روحانی باغ لگ جاتے ہیں اور آئینہ کی طرح خدا نظر آتا ہے اسی مقام پر پہنچ کر انسان دنیا میں جنت کا نمونہ پاتا ہے اور یہاں ہی هذَا الَّذِى رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ وَأتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا (البقرة: 26) کہنے کا حظ اور لطف اٹھاتا ہے۔غرض حالت تعبد کی درستی کا نام عبادت ہے۔پھر فرمایا اِنَّنِی لَكُمْ مِنْهُ نَذِيرٌ وَّ بَشِيرٌ - چونکہ یہ تعبد تام کا عظیم الشان کام انسان بدوں کسی اسوہ حسنہ اور نمونہ کاملہ کے اور کسی قوت قدسی کے کامل اثر کے بغیر نہیں کر سکتا تھا اس لئے رسول اللہ صلعم فرماتے ہیں کہ میں اسی خدا کی طرف سے نذیر اور بشیر ہو کر آیا ہوں اگر میری اطاعت کرو گے اور مجھے قبول کرو گے تو تمہارے لئے بڑی بڑی بشارتیں ہیں کیونکہ میں بشیر ہوں اور اگر رد کرتے ہو تو یا درکھو کہ میں نذیر ہو کر آیا ہوں۔پھر تم کو بڑی بڑی عقوبتوں اور دکھوں کا سامنا ہوگا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 346-347)