حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 858 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 858

858 نیکی کا حکم عام ہے هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ۔(الرحمن: 61) نیکی کرنے کی پاداش نیکی ہے۔اگر ہم صرف مسلمان نیکی کرنے والے سے نیکی کریں اور غیر مذہب والوں سے نیکی نہ کریں تو ہم خدا تعالیٰ کی تعلیم کو چھوڑتے ہیں کیونکہ اس نے نیکی کی پاداش میں کسی مذہب کی قید نہیں لگائی بلکہ صاف فرمایا ہے کہ اس شریر پر خدا راضی نہیں کہ جو نیکی کرنے والوں سے بدی کرتا ہے۔( ایام الصلح۔ر۔خ۔جلد 14 صفحہ 367) وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلى حُبّهِ مِسْكِيْنًا وَّ يَتِيمًا وَّ أَسِيرًا۔(الدهر : 9) تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو یا درکھو کہ تم ہر شخص سے خواہ وہ کسی مذہب کا ہو ہمدردی کرو اور بلا تمیز ہر ایک سے نیکی کرو کیونکہ یہی قرآن شریف کی تعلیم ہے وَيُطْعِمُونَ الطَّعَامَ عَلَى حُبِّهِ مِسْكِيْنًا وَيَتِيمًا وَّاسِيرًا (الدھر : 9) وہ اسیر اور قیدی جو آتے تھے اکثر کفا ر ہی ہوتے تھے۔اب دیکھ لو کہ اسلام کی ہمدردی کی انتہاء کیا ہے۔میری رائے میں کامل اخلاقی تعلیم بجز اسلام کے اور کسی کو نصیب ہی نہیں ہوئی۔( ملفوظات جلد چہارم صفحه 219) إِنَّمَا يَنْهَكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَتَلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ اَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَ ظَهَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ اَنْ تَوَلَّوهُمْ وَمَنْ يَّتَوَلَّهُمْ فَأُولَئِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ۔(الممتحنة: 10) خدا نے جو تمہیں ہمدردی اور دوستی سے منع کیا ہے تو صرف ان لوگوں کی نسبت جنہوں نے دینی لڑائیاں تم سے کیں اور تمہیں تمہارے وطنوں سے نکالا اور بس نہ کیا جب تک باہم مل کر تمہیں نہ نکال دیا سوان کی دوستی حرام ہے کیونکہ یہ دین کو مٹانا چاہتے ہیں۔اس جگہ یا در کھنے کے لائق ایک نکتہ ہے اور وہ یہ ہے کہ تولی عربی زبان میں دوستی کو کہتے ہیں جس کا دوسرا نام مودت ہے اور اصل حقیقت دوستی اور مودت کی خیر خواہی اور ہمدردی ہے۔سومومن نصاری اور یہود اور ہنود سے دوستی اور ہمدردی اور خیر خواہی کر سکتا۔احسان کر سکتا ہے مگر ان سے محبت نہیں کر سکتا۔یہ ایک باریک فرق ہے اس کو خوب یا درکھو۔ہے۔( نور القرآن۔۔۔خ۔جلد 9 صفحہ 436-435)