حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 860 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 860

860 يايَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِي إِلَى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً فَادْخُلِي فِي عِبَادِي۔وَ ادْخُلِي جَنَّتِي۔(الفجر: 28 تا 31) اے نفس بحق آرام یافتہ اپنے رب کی طرف واپس چلا آ۔تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے راضی۔سو میرے بندوں میں داخل ہو اور میرے بہشت میں اندر آجا۔ان دونوں آیات جامع البرکات سے ظاہر ہو رہا ہے کہ انسان کی روح کے لئے بندگی اور عبودیت دائمی اور لازمی ہے اور اسی عبودیت کی غرض سے وہ پیدا کیا گیا ہے بلکہ آیت مؤخر الذکر میں یہ بھی فرما دیا ہے کہ جو انسان اپنی سعادت کا ملہ کو پہنچ جاتا ہے اور اپنے تمام کمالات فطرتی کو پالیتا ہے اور اپنی جمیع استعدادات کو انتہائی درجہ تک پہنچا دیتا ہے اس کو اپنی آخری حالت پر عبودیت کا ہی خطاب ملتا ہے اور فَادْخُلَى فِى عِبَادِی کے خطاب سے پکارا جاتا ہے۔سواب دیکھئے اس آیت سے کس قدر بصراحت ثابت ہوتا ہے کہ انسان کا کمال مطلوب عبودیت ہی ہے اور سالک کا انتہائی مرتبہ عبودیت تک ہی ختم ہو جاتا ہے۔(مکتوبات احمد جلد اول صفحہ 76-75) آداب نماز وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ ، وَ إِنَّهَا لَكَبِيرَةُ إِلَّا عَلَى الْخَشِعِينَ۔(البقرة:46) نماز اور صبر کے ساتھ خدا سے مدد چاہو نماز کیا چیز ہے وہ دعا ہے جو تسبیح تحمید تقدیس اور استغفار اور درود کے ساتھ تضرع سے مانگی جاتی ہے سو جب تم نماز پڑھو تو بے خبر لوگوں کی طرح اپنی دعاؤں میں صرف عربی الفاظ کے پابند نہ رہو کیونکہ ان کی نماز اور ان کا استغفار سب رسمیں ہیں جن کے ساتھ کوئی حقیقت نہیں۔کشتی نوح - ر-خ- جلد 19 صفحہ 69-68) انسان کو جو حکم اللہ تعالیٰ نے شریعت کے رنگ میں دیئے ہیں جیسے اَقِیمُوا الصَّلوةَ نماز کو قائم رکھو یا فرمایا وَاسْتَعِيْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلوةِ ان پر جب وہ ایک عرصہ تک قائم رہتا ہے تو یہ احکام بھی شرعی رنگ سے نکل کر کونی رنگ اختیار کر لیتے ہیں اور پھر وہ ان احکام کی خلاف ورزی کر ہی نہیں سکتا۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 352-351) قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمُ فِى صَلَاتِهِمْ حَشِعُونَ (المومنون: 3-2) جب تک انسان کتاب اللہ کو مقدم نہیں کرتا اور اس کے مطابق عمل درآمد نہیں کرتا تب تک اس کی نمازیں محض وقت کا ضائع کرنا ہے۔قرآن مجید میں تو صاف طور پر لکھا ہے قَدْ أَفْلَحَ الْمُؤْمِنُونَ الَّذِينَ هُمْ فِي هم خشِعُون یعنی جب دعا کرتے کرتے انسان کا دل پھل جائے اور آستانہ الوہیت پر ایسے خلوص اور صدق سے گر جاوے کہ بس اسی میں محو ہو جاوے اور سب خیالات کو مٹا کر اسی سے فیض اور استعانت طلب کرے اور ایسی یکسوئی حاصل ہو جائے کہ ایک قسم کی رقت اور گداز پیدا ہو جائے تب فلاح کا دروازہ کھل جاتا ہے جس سے دنیا کی محبت ٹھنڈی ہو جاتی ہے کیونکہ دو محبتیں ایک جگہ جمع نہیں رہ سکتیں جیسے لکھا ہے ہم خدا خواہی و ہم دنیائے دوں ایں خیال است و محال است و جنوں ( ملفوظات جلد پنجم صفحه 400) ترجمہ: تم خدا اور دنیا کی محبت دونوں کو چاہتے ہو۔یہ ایک خیال ہے۔اور ناممکن ہے اور دیوانگی ہے۔