حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 846 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 846

846 ساتویں فصل مجاہدہ ضروری ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ اس سورۃ میں جس کا نام خاتم الکتاب اور ام الکتاب بھی ہے صاف طور پر بتا دیا ہے کہ انسانی زندگی کا کیا مقصد ہے اور اس کے حصول کی کیا راہ ہے؟ إِيَّاكَ نَعْبُدُ گویا انسانی فطرت کا اصل تقاضا اور منشاء ہے اسے اِيَّاكَ نَسْتَعِينُ پر مقدم کر کے یہ بتایا ہے کہ پہلے ضروری ہے کہ جہاں تک انسان کی اپنی طاقت۔ہمت اور سمجھ میں ہو خدا تعالیٰ کی رضامندی کی راہوں کے اختیار کرنے میں سعی اور مجاہدہ کرے اور خدا تعالیٰ کی عطا کردہ قوتوں سے پورا کام لے اور اس کے بعد پھر خدا تعالیٰ سے اس کی تکمیل اور نتیجہ خیز ہونے کے لیے دعا کرے۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 235) وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔(العنكبوت: 70) جو لوگ چاہتے ہیں کہ ہمیں کوئی محنت اور مشقت نہ کرنی پڑے وہ بیہودہ خیال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں صاف فرمایا ہے وَ الَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهْدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی معرفت کے دروازوں کے کھلنے کیلئے مجاہدہ کی ضرورت ہے اور وہ مجاہدہ اسی طریق پر ہو جس طرح کہ اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے۔اس کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نمونہ اور اسوہ حسنہ ہے بہت سے لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کو چھوڑ دیتے ہیں اور پھر سبز پوش یا گیروے پوش فقیروں کی خدمت میں جاتے ہیں کہ پھونک مار کر کچھ بنا دیں۔یہ بیہودہ بات ہے۔ایسے لوگ جو شرعی امور کی پابندیاں نہیں کرتے اور ایسے بیہودہ دعوے کرتے ہیں وہ خطر ناک گناہ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول سے بھی اپنے مراتب کو بڑھانا چاہتے ہیں کیونکہ ہدایت دینا اللہ تعالیٰ کا فعل ہے اور وہ مشت خاک ہو کر خود ہدایت دینے کے مدعی ہوتے ہیں۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 240) بموجب تعلیم قرآن شریف ہمیں یہ امر یوں معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف تو اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اپنے کرم۔رحم لطف اور مہر بانیوں کے صفات بیان کرتا ہے اور رحمن ہونا ظاہر کرتا ہے اور دوسری طرف فرماتا ہے کہ ان لَيْسَ لِلإِنْسَانِ إِلَّا مَاسَعى (النجم :(40) اور وَالَّذِينَ جَاهَدُوا فِيْنَا لَنَهُدِيَنَّهُمْ سُبُلَنَا۔(اعنكبوت: 70) فرما کر اپنے فیض کو عی اور مجاہدہ میں منحصر فرماتا ہے نیز اس میں صحابہ رضی اللہ عنہم ) کا طرز عمل ہمارے واسطے ایک اسوہ حسنہ اور عمدہ نمونہ ہے۔صحابہ کی زندگی میں غور کر کے دیکھو بھلا انہوں نے محض معمولی نمازوں سے ہی وہ مدارج حاصل کر لئے تھے؟ نہیں۔بلکہ انہوں نے تو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے واسطے اپنی جانوں تک کی پرواہ نہیں کی اور بھیڑ بکریوں کی طرح خدا کی راہ میں قربان ہو گئے جب جا کر کہیں ان کو یہ رتبہ حاصل ہوا تھا۔اکثر لوگ ہم نے ایسے دیکھے ہیں وہ یہی چاہتے ہیں کہ ایک پھونک مار کر ان کو وہ درجات دلا دئے جاویں اور عرش تک ان کی رسائی ہو جاوے۔