حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 845 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 845

845 وَالْقَمَرَ قَدَّرُنَهُ مَنَازِلَ حَتَّى عَادَ كَالْعُرُجُونِ الْقَدِيمِ۔لَا الشَّمْسُ يَنْبَغِي لَهَا أَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا الَّيْلُ سَابِقُ النَّهَارِ وَكُلٌّ فِي فَلَكٍ يُسْبَحُونَ (يس 41-40) ایک اور نکتہ قابل یادداشت ہے اور وہ یہ کہ تیسری قسم کے لوگ بھی جن کا خدا تعالیٰ سے کامل تعلق ہوتا ہے اور کامل اور مصفی الہام پاتے ہیں قبول فیوض الہیہ میں برابر نہیں ہوتے اور ان سب کا دائرہ استعدا د فطرت باہم برابر نہیں ہوتا بلکہ کسی کا دائرہ استعداد فطرت کم درجہ پر وسعت رکھتا ہے اور کسی کا زیادہ وسیع ہوتا ہے اور کسی کا بہت زیادہ اور کسی کا اس قدر جو خیال و گمان سے برتر ہے اور کسی کا خدا تعالیٰ سے رابطہ محبت قوی ہوتا ہے اور کسی کا اقومی اور کسی کا اس قدر کہ دنیا اس کو شناخت نہیں کر سکتی اور کوئی عقل اس کے انتہاء تک نہیں پہنچ سکتی اور وہ اپنے محبوب از لی کی محبت میں اس قدر محو ہوتے ہیں کہ کوئی رگ وریشہ ان کی ہستی اور وجود کا باقی نہیں رہتا اور یہ تمام مراتب کے لوگ بموجب آیت كُلِّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُون (الانبیاء: 34) اپنے دائرہ استعداد فطرت سے زیادہ ترقی نہیں کر سکتے اور کوئی ان میں سے اپنے دائرہ فطرت سے بڑھ کر کوئی نور حاصل نہیں کر سکتا اور نہ کوئی روحانی تصویر آفتاب نورانی کی اپنی فطرت کے دائرہ سے بڑھ کر اپنے اندر لے سکتا ہے اور خدا تعالیٰ ہر ایک کی استعدا د فطرت کے موافق اپنا چہرہ اس کو دکھا دیتا ہے اور فطرتوں کی کمی بیشی کی وجہ سے وہ چہرہ کہیں چھوٹا ہو جاتا ہے اور کہیں بڑا۔(حقیقۃ الوحی۔رخ- جلد 22 صفحہ 28-27) من اندر کار خود حیرانم و رازش نمے دانم کہ من بے خدمتے دیدم چنیں نعماء وحشمت را مگر میں اپنے معاملہ میں حیران ہوں اور اس کا بھید نہیں جانتا کیونکہ بغیر کسی خدمت کے ایسی نعمتیں اور عزتیں مجھے مل گئیں۔نہاں اندر نہاں اندر نہاں اندر نہاں ہستم کجا باشد خبر از ما گرفتاران نخوت را میں پوشیدہ در پوشیدہ ہوں۔پس ہمارے متعلق متکبر انسانوں کو کیا خبر ہو سکتی ہے۔( در شین فارسی صفحه 310) ( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 21 صفحہ 76)