حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 58 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 58

58 يه حديث (إن الله يبعث لهذه الامة على رأس كل مائة سنة من يجد دلها دينها - ناقل) إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ كى شرح ہے۔صدی ایک عام آدمی کی عمر ہوتی ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے ایک حدیث میں فرمایا کہ سو سال بعد کوئی نہ رہے گا۔جیسے صدی جسم کو مارتی ہے اسی طرح ایک روحانی موت بھی واقع ہوتی ہے۔اس لئے صدی کے بعد ایک نئی ذریت پیدا ہو جاتی ہے۔جیسے اناج کے کھیت۔اب دیکھتے ہیں کہ ہرے بھرے ہیں ایک وقت میں بالکل خشک ہوں گے پھر نئے سرے سے پیدا ہو جائیں گے اس طرح پر ایک سلسلہ جاری رہتا ہے پہلے اکا بر سوسال کے اندرفوت ہو جاتے ہیں اس لئے خدا تعالیٰ ہر صدی پر نیا انتظام کر دیتا ہے جیسا رزق کا سامان کرتا ہے۔پس قرآن کی حمایت کے ساتھ یہ حدیث تواتر کاحکم رکھتی ہے۔کپڑا پہنتے ہیں تو اس کی بھی تجدید کی ضرورت پیدا ہوتی ہے اسی طریق پر نئی ذریت کو تازہ کرنے کیلئے سنت اللہ اسی طرح جاری ہے کہ ہر صدی پر مجدد آتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 86-87) حضرت اقدس حفاظت قرآن کریم کی غرض سے مبعوث ہوئے ہیں وہ پاک وعدہ جس کو یہ پیارے الفاظ ادا کر رہے ہیں کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر: 10) وہ انہیں دنوں کیلئے وعدہ ہے جو بتلا رہا ہے کہ جب اسلام پر سخت بلا کا زمانہ آئے گا اور سخت دشمن اس کے مقابل کھڑا ہوگا اور سخت طوفان پیدا ہو گا تب خدائے تعالیٰ آپ اس کا معالجہ کرے گا اور آپ اس طوفان سے بچنے کیلئے کوئی کشتی عنایت کرے گا وہ کشتی اسی عاجز کی دعوت ہے۔آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 264 حاشیہ ) یا درکھو کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کیلئے غیور ہے۔اس نے بیچ فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لحفِظُونَ۔(الحجز 10) اس نے اس وعدہ کے موافق اپنے ذکر کی محافظت فرمائی اور مجھے مبعوث کیا اور آنحضرت ہی ہے کے وعدہ کے موافق کہ ہر صدی کے سر پر مجد آتا ہے اس نے مجھے صدی چہار دہم کا مجرد کیا جس کا نام کلاسرا الصليب بھی رکھا ہے۔اگر ہم اس دعوئی میں غلطی پر ہیں تو پھر سارا کاروبار نبوت کا ہی باطل ہوگا اور سب وعدے جھوٹے ٹھہریں گے اور پھر سب سے بڑھ کر عجیب بات یہ ہوگی کہ خدا تعالیٰ بھی جھوٹوں کی حمایت کرنے والا ثابت ہوگا (معاذ اللہ ) کیو نکہ ہم اس سے تائید میں پاتے ہیں اور اس کی نصرتیں ہمارے ساتھ ہیں۔(ملفوظات جلد 2 صفحہ 371،370) اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدہ کے موافق کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحج:10) قرآن شریف کی عظمت کو قائم کرنے کیلئے چودھویں صدی کے سر پر مجھے بھیجا۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 433) اس وقت میرے مامور ہونے پر بہت سی شہادتیں ہیں اول اندرونی شہادت دوم بیرونی شہادت سوم صدی کے سر پر آنے والے مجدد کی نسبت حدیث صحیح۔چہارم إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُوْن۔( الحجر : 10 ) کا وعدہ حفاظت۔قرآن کریم جس کا دوسرا نام ذکر ہے اس ابتدائی زمانہ میں انسان کے اندر چھپی ہوئی اور فراموش ہوئی ہوئی صداقتوں اور ودیعتوں کو یاد دلانے کے لئے آیا تھا۔اللہ تعالیٰ کے اس وعدہ واثقہ کی رو سے کہ إِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ۔( الحجر : 10) اس زمانے میں بھی آسمان سے ایک معلم آیا جو آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِھم کا مصداق اور موعود ہے۔وہ ہی ہے جو تمہارے درمیان بول رہا ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحه 360) (ملفوظات جلد اول صفحہ 60)