حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 57
57 بارہویں فصل حفاظت قرآن کریم کے اعتبار سے وعده حفاظت قرآن کریم إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَوَ إِنَّا لَهُ لَحْفِظُوْنَ 0 ( الحج : 10) ( یہ آیت) صاف بتلا رہی ہے کہ جب ایک قوم پیدا ہوگی کہ اس ذکر کو دنیا سے مٹانا چاہے گی تو اس وقت خدا آسماں سے اپنے کسی فرستادہ کے ذریعہ سے اس کی حفاظت کرے گا۔(تحفہ گولڑو یہ۔سرخ جلد 17 صفحہ 267 حاشیہ ) اسلام کی حفاظت کا ذمہ اسی کی و قیوم خدا نے إِنَّا لَهُ لَحفِظون کہہ کر اٹھایا ہوا ہے۔پس ہر زمانہ میں یہ دیں زندوں سے زندگی پاتا ہے اور مردوں کو جلاتا ہے۔یادرکھو اس میں قدم قدم پر زندے آتے ہیں۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 346) یہ امر قرآن شریف سے بھی ثابت ہے کہ اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کے دین کی حفاظت کرتا رہا ہے اور کرے گا جیسا کہ فرمایا ہے إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحفِظُونَ یعنی بے شک ہم نے ہی اس ذکر کو نازل کیا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے انا له لحفظون کا لفظ صاف طور پر دلالت کرتا ہے کہ صدی کے سر پر ایسے آدمی آتے رہیں گے جو گم شدہ متاع کو لائیں اور لوگوں کو یاد دلائیں۔( ملفوظات جلد 4 صفحہ 629) وعدہ حفاظت قرآن کریم کے معنی اس جگہ یہ بھی واضح رہے کہ اللہ جلشانہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لحفظونَ۔(الحجر: 10) یعنی ہم نے ہی اس کتاب کو اتارا اور ہم ہی اس تنزیل کی محافظت کریں گے اس میں اس بات کی تصریح ہے کہ یہ کلام ہمیشہ زندہ رہے گا اور اس کی تعلیم کو تازہ رکھنے والے اور اس کا نفع لوگوں کو پہنچانے والے ہمیشہ پیدا ہوتے رہیں گے۔اور اگر یہ سوال ہو کہ قرآن کے وجود کا فائدہ کیا ہے جس فائدہ کے وجود پر اس کی حقیقی حفاظت موقوف ہے تو اس دوسری آیت سے ظاہر ہے هُوَ الَّذِي بَعَثَ فِي الْأُمِّيِّينَ رَسُوْلًا مِّنْهُمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمْ ايته وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَب وَالْحِكْمَةَ - ( الجمعة :3) اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ قرآن کے بڑے فائدے دو ہیں جن کے پہنچانے کیلئے آنحضرت ﷺ تشریف لائے تھے۔ایک حکمت فرقان یعنی معارف و دقائق قرآن دوسری تاثیر قرآن جو موجب تزکیہ نفوس ہے اور قرآن کی حفاظت صرف اس قدر نہیں جو اس کے صحف مکتو بہ کو خوب نگہبانی سے رکھیں کیونکہ ایسے کام تو اوائل حال میں یہود اور نصاری نے بھی کئے یہاں تک کہ توریت کے نقطے بھی گن رکھے تھے۔بلکہ اس جگہ مع حفاظت ظاہری حفاظت فوائد دیتا خیرات قرآنی مراد ہے اور وہ موافق سنت اللہ کے تبھی ہو سکتی ہے کہ جب وقتا فوقتا نائب رسول آویں جن میں ظلمی طور پر رسالت کی تمام نعمتیں موجود ہوں اور جن کو وہ تمام برکات دی گئی ہوں جو نبیوں کو دیجاتی ہوں جیسا کہ ان آیات میں اس امر عظیم کی طرف اشارہ ہے اور وہ یہ ہے وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمَنًا يَعْبُدُو نَنِى لَا يُشْرِكُونَ فِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَالِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ۔(النور: 56) شہادت القرآن۔رخ جلد 6 صفحہ 339-338)