حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 59
59 59 واخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ ، وَهُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ (الجمعه: 4 ) جو کچھ اللہ نے چاہا تھا اس کی تکمیل دوہی زمانوں میں ہونی تھی ایک آپ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح و مہدی کا زمانہ۔یعنی ایک زمانہ میں تو قرآن اور بچی تعلیم نازل ہوئی لیکن اس تعلیم پر فیح اعوج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا جس پردہ کا اٹھایا جانا مسیح کے زمانہ میں مقدر تھا جیسے کہ فرمایا رسول اکرم ﷺ نے ایک تو موجودہ جماعت یعنی جماعت صحابہ کرام کا تزکیہ کیا اور ایک آنے والی جماعت کا جس کی شان میں ـــــــــا يَلْحَقُوا بهم آیا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ خدا نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا بلکہ آنے والے زمانہ میں خدا حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا۔آثار میں ہے کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہوگی کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہوگا اور صرف قرآن سے استنباط کر کے لوگوں کو ان کی غلطیوں سے متنبہ کرے گا جو حقائق قرآن کی ناواقفیت سے لوگوں میں پیدا ہو گئی ہوں۔(ملفوظات جلد اول صفحہ 25) مجھے خدا کی قسم ہے جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ مجھے قرآن کے حقائق اور معارف کے سمجھنے میں ہر ایک روح پر غلبہ دیا گیا ہے اور اگر کوئی مولوی مخالف میرے مقابل پر آتا جیسا کہ میں نے قرآنی تفسیر کیلئے بار باران کو بلا یا تو خدا اس کو ذلیل اور شرمندہ کرتا۔سوفہم قرآن جو مجھ کو عطا کیا گیا یہ اللہ جل شانہ کا ایک نشان ہے۔میں خدا کے فضل سے امید رکھتا ہوں کہ عنقریب دنیا دیکھے گی کہ میں اس بیان میں سچا ہوں۔(سراج منیر۔رخ جلد 12 صفحہ 41) فَارَادَ اللَّهُ أَنْ يُحْفَظَ عِزَّةَ كِتَابِهِ وَدِيْنَ طُلًّا به مِنْ فِتَن تِلْكَ النَّوَا دِر كَمَا وَعَدَ فِي قَوْلِهِ إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَافِظُونَ فَأَنْجَزَ وَعْدَهُ وَأَيَّدَ عَبْدَهُ فَضْلًا مِّنْهُ وَرَحْمَةً وَّ أَوْحَى إِلَيَّ أَنْ أَقُومَ بِالْاِ نْدَارِ وَأَنْزَلَ مَعِى نَوَادِرَ النِّكَاتِ وَالْعَلُوْمِ وَالتَّائِيْدَاتِ مِنَ السَّمَاءِ لِيَكْسِرِ بِهَا نَوَادِرَ الْمُتَنَصِرِيْنَ وَصَلِيْبَهُمْ - پس اللہ تعالیٰ نے ارادہ کیا کہ وہ اپنی کتاب اور اپنے طالبوں کے دین کی عزت کو ان نوادر کے فتنہ سے محفوظ رکھے جیسا کہ اس نے اپنے قول إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّالَهُ لَحفِظُونَ میں وعدہ کیا تھا پس اس نے اپنے وعدہ کو پورا فرمایا اور اپنے فضل اور رحمت سے اپنے بندہ کی تائید فرمائی اور میری طرف وحی کی کہ میں منذر بن کر کھڑا ہو جاؤں۔اور میرے ساتھ نادر نکات و علوم اور آسمانی تائیدات اتاریں تا اللہ تعالیٰ ان کے ذریعہ سے عیسائیوں کے نوادر اور ان کی صلیب کو پاش پاش کر دے۔( آئینہ کمالات اسلام۔رخ جلد 5 صفحہ 480) عیاں کر ان کی پیشانی پر اقبال نہ آوے ان کے گھر تک رُعب دجال بچانا ان کو ہر غم سے بہر حال نہ ہوں وہ دکھ میں اور رنجوں میں پامال یہی امید ہے دل نے بتا دی فَسُبْحَانَ الَّذِي أَخْرَى الْأَعَادِي (در مشین اردو صفحه 43)