حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 688 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 688

688 خدا تعالیٰ کی طرف سے روحانی اصلاح کے لیے مقرر ہونے والے لوگ چراغ کی طرح ہوتے ہیں۔اسی واسطے قرآن شریف میں آپ کا نام دَاعِيًا إِلَى اللهِ بِإِذْنِهِ وَسِرَاجًا مُنِيرًا (الاحزاب:47) آیا ہے دیکھوسی اندھیرے مکان میں جہاں سو پچاس آدمی ہوں اگر ان میں سے ایک کے پاس چراغ روشن ہو تو سب کو اس کی طرف رغبت ہوگی اور چراغ ظلمت کو پاش پاش کر کے اجالا اور نور کر دے گا۔اس جگہ آپ کا نام چراغ رکھنے میں ایک اور بار یک حکمت یہ ہے کہ ایک چراغ سے ہزاروں لاکھوں چراغ روشن ہو سکتے ہیں اور اس میں کوئی تقص بھی نہیں آتا۔چاند سورج میں یہ بات نہیں۔اس سے مطلب یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اطاعت کرنے سے ہزاروں لاکھوں انسان اس مرتبہ پر پہنچیں گے اور آپ کا فیض خاص نہیں بلکہ عام اور جاری ہوگا۔غرض یہ سنت اللہ ہے کہ ظلمت کی انتہا کے وقت اللہ تعالیٰ اپنی بعض صفات کی وجہ سے کسی انسان کو اپنی طرف سے علم اور معرفت دے کر بھیجتا ہے اور اس کے کلام میں تاثیر اور اس کی توجہ میں جذب رکھ دیتا ہے۔اس کی دعائیں مقبول ہوتی ہیں۔مگر وہ ان ہی کو جذب کرتے ہیں اور ان ہی پر ان کی تاثیرات اثر کرتی ہیں جو اس انتخاب کے لائق ہوتے ہیں۔دیکھو آ نحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام سرا جا منیرا ہے۔مگر ابوجہل نے کہاں قبول کیا ؟ باران که در لطافت طبعش خلاف نیست در باغ لاله روید و در شوره بوم و خس و (ترجمہ: بارش جو طبعی طور پر اچھی ہے۔مگر وہ باغ میں پھول اور شورہ زمین میں خس و خاشاک پیدا کرتی ہے۔) ( ملفوظات جلد پنجم صفحه 664-665) من در حریم قدس چراغ صداقتم دستش محافظ است زہر باد صرصرم (ترجمہ:۔میں درگاہ قدس میں صداقت کا چراغ ہوں۔اسی کا ہاتھ ہر تیز ہوا سے میری حفاظت کرنے والا ہے۔) (ازالہ اوہام حصہ اول ) ( در نمین فارسی مترجم صفحه 1666) و کذالک لفظ المنارة التى جاء في الحديث فانه یعنی به موضع نور و قد يطلق على علم یهندی به فهذه اشارة الى ان المسيح الأتى يعرف بانوار تسبق دعواه فهى تكون له كعلم به يهتدون و نظيره في القران قوله تعالی و داعيا الى الله باذنه و سراجا منيرا۔(الاحزاب:47) ترجمه از مرتب :۔حدیث میں جو لفظ منارہ آیا ہے اس سے نور کی جگہ مراد ہے اور کبھی اس کا اطلاق اس نشان راہ پر ہوتا ہے جس سے راہنمائی حاصل کی جاتی ہے۔پس یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آنے والا یح اپنے دعوئی سے پہلے ظاہر ہونے والے انوار کی وجہ سے پہچانا جائے گا اور وہ اس کے لئے ایسی علامات کی مانند ہوں گے جس کے ذریعہ لوگ ہدایت پائیں گے اور اس کی نظیر قرآن مجید میں موجود ہے جیسے فرمایا وَّ دَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُّنِيرًا۔آئینہ کمالات اسلام -ر خ- جلد 5 صفحہ 457-458) ایک گاؤں میں سو گھر تھے اور صرف ایک گھر میں چراغ جلتا تھا تب جب لوگوں کو معلوم ہوا تو وہ اپنے اپنے چراغ لے کر آئے اور سب نے اس چراغ سے اپنے چراغ روشن کئے۔اسی طرح ایک روشنی سے کثرت ہو سکتی ہے۔اسی طرف اللہ تعالیٰ اشارہ کر کے فرماتا ہے۔وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُنِيرًا۔(براہین احمدیہ۔رخ۔جلد 21 صفحہ 425)