حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 687
687 انبیاء من حیث الظل باقی رکھے جاتے ہیں وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُتُ فِي الْأَرْضِ (الرعد: 18) یعنی جو چیز انسانوں کو نفع پہنچاتی ہے وہ زمین پر باقی رہتی ہے اب ظاہر ہے کہ دنیا میں زیادہ تر انسانوں کو نفع پہنچانے والے گروہ انبیاء ہیں کہ جو خوارق سے معجزات سے پیشگوئیوں سے حقائق سے معارف سے اپنی راست بازی کے نمونہ سے انسانوں کے ایمان کو قوی کرتے ہیں اور حق کے طالبوں کو دینی نفع پہنچاتے ہیں اور یہ بھی ظاہر ہے کہ وہ دنیا میں کچھ بہت مدت تک نہیں رہتے بلکہ تھوڑی سی زندگی بسر کر کے اس عالم سے اٹھائے جاتے ہیں لیکن آیت کے مضمون میں خلاف نہیں اور ممکن نہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام خلاف واقع ہو۔پس انبیاء کی طرف نسبت دے کر معنی آیت کے یوں ہوں گے کہ انبیاء من حیث القلق باقی رکھے جاتے ہیں اور خدا تعالی ظلمی طور پر ہر یک ضرورت کے وقت میں کسی اپنے بندہ کو ان کی نظیر اور مثیل پیدا کر دیتا ہے جو انہیں کے رنگ میں ہو کر ان کی دائمی زندگی کا موجب ہوتا ہے۔(شہادة القرآن-ر-خ-جلد 6 صفحہ 351-352) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا مقام وَرَفَعَ بَعْضَهُمْ دَرَجَاتٍ (البقرة: 254) اس جگہ صاحب درجات رفیعہ سے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مراد ہیں جن کو ظلی طور پر انتہائی درجہ کے کمالات جو کمالات الوہیت کے اظلال و آثار ہیں بخشے گئے اور وہ خلافت حقہ جس کے وجود کامل کے تحقیق کے لیے سلسلہ بنی آدم کا قیام بلکہ ایجاد کل کائنات کا ہوا ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وجود باجود سے اپنے مرتبہ اتم و اکمل میں ظہور پذیر ہوکر آئینہ خدا نما ہوئے۔(سرمہ چشم آرید- ر-خ- جلد 2 صفحہ 234 235 حاشیہ) اس رفع درجات سے وہی انتہائی درجہ کا ارتفاع مراد ہے جو ظاہری اور باطنی طور پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حاصل ہے اور یہ وجود باجود خیر مجسم ہے مقربین کے تین قسموں سے اعلیٰ و اکمل ہے جو الوہیت کا مظہر اتم کہلاتا ہے۔سرمه چشم آریہ۔ر-خ- جلد 2 صفحہ 252 حاشیہ ) انبیاء کی چراغ اور نور سے مشابہت وَّدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِاِذْنِهِ وَ سِرَاجًا مُّبِيرًا۔(الاحزاب:47) انبیاء منجمله سلسله متفاوتہ فطرت انسانی کے وہ افراد عالیہ ہیں جن کو اس کثرت اور کمال سے نور باطنی عطا ہوا ہے کہ گویا وہ نور مجسم ہو گئے ہیں اسی جہت سے قرآن شریف میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام نور اور سراج منیر رکھا ہے جیسا فرمایا ہے قَدْ جَاءَكُمْ مِنَ اللهِ نُورٌ وَّ كِتَابٌ مُّبِينٌ الجز نمبر 6 وَدَاعِيًا إِلَى اللَّهِ بِإِذْنِهِ وَ سِرَاجًا منيرا الجز نمبر 22 یہی حکمت ہے کہ نو روحی جس کے لئے نو ر فطرتی کا کامل اور عظیم الشان ہونا شرط ہے صرف انبیاء کو ملا اور انہیں سے مخصوص ہوا۔( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 1 صفحہ 196 حاشیہ نمبر (11)