حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 581
581 توحید کا نقش قدرت کی ہر چیز میں ہے انسان کی فطرت ہی میں اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى (الاعراف : 173) نقش کیا گیا ہے۔اور تثلیث سے کوئی مناسبت جبلت انسانی اور تمام اشیائے عالم کو نہیں ایک قطرہ پانی کا دیکھو تو وہ گول نکلتا ہے۔مثلث کی شکل میں نظر نہیں آتا اس سے بھی صاف طور پر یہی پایا جاتا ہے کہ توحید کا نقش قدرت کی ہر چیز میں رکھا ہوا ہے۔خوب غور سے دیکھو کہ پانی کا قطرہ گول ہوتا ہے۔اور گر وی شکل میں تو حید ہی ہوتی ہے۔اس لیے کہ وہ جہت کو نہیں چاہتی۔اور مثلث شکل جہت کو چاہتی ہے۔چنانچہ آگ کو دیکھو شکل بھی مخروطی ہے۔اور وہ بھی کر ویت اپنے اندر رکھتی ہے۔اس سے بھی توحید کا نور چمکتا ہے۔زمین کو لو اور انگریزوں ہی سے پوچھو کہ اس کی شکل کیسی ہے؟ کہیں گے گول۔الغرض طبعی تحقیقا تیں جہاں تک ہوتی چلی جائیں گی وہاں تو حید ہی تو حید نکلتی چلی جائے گی۔مصنوع اور صانع کے اعتبار سے ( ملفوظات جلد اول صفحه 40) قَالَتْ رُسُلُهُمْ وَ فِي اللَّهِ شَكٍّ فَاطِرِ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ يَدْعُوكُمْ لِيَغْفِرَ لَكُمْ مِنْ ذُنُوبِكُمْ وَيُؤَخِّرَكُمْ إِلَى أَجَلٍ مُّسَمًّى۔(ابراهيم: 11) کیا اللہ کے وجود میں بھی شک ہوسکتا ہے جو زمین و آسمان کا پیدا کرنے والا ہے۔دیکھو یہ تو بڑی سیدھی اور صاف بات ہے کہ ایک مصنوع کو دیکھ کر صانع کو مانا پڑتا ہے۔ایک عمدہ جوتے یا صندوق کو دیکھ کر اس کے بنانے والے کی ضرورت کا معا اعتراف کرنا پڑتا ہے پھر تعجب پر تعجب ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ہستی میں کیونکر انکار کی گنجائش ہوسکتی ہے۔ایسے صانع کے وجود کا کیونکر انکار ہوسکتا ہے جس کے ہزار ہا عجائبات سے زمین و آسمان پر ہیں۔( ملفوظات جلد اول صفحہ 34-33) إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَوَاتِ وَالْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَالنَّهَارِ وَالْفُلْكِ الَّتِي تَجْرِى فِى الْبَحْرِ بِمَا يَنْفَعُ النَّاسَ وَمَا أَنْزَلَ اللَّهُ مِنَ السَّمَاءِ مِنْ مَّآءٍ فَأَحْيَا بهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا وَ بَثَّ فِيهَا مِنْ كُلِّ دَابَّةٍ وَتَصْرِيفِ الرِّيحِ وَالسَّحَابِ الْمُسَخَّرِ بَيْنَ السَّمَاءِ وَ الْأَرْضِ لَايتٍ لِقَوْمٍ يَعْقِلُونَ (البقرة: 165) یعنی تحقیق آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے اختلاف اور ان کشتیوں کے چلنے میں جو دریا میں لوگوں کے نفع کے لیے چلتی ہیں اور جو کچھ خدا نے آسمان سے پانی اتارا اور اس سے زمین کو اس کے مرنے کے بعد زندہ کیا اور زمین میں ہر ایک قسم کے جانور بکھیر دیئے اور ہواؤں کو پھیرا اور بادلوں کو آسمان اور زمین میں مسخر کیا یہ سب خدا تعالیٰ کے وجود اور اس کی توحید اور اس کے الہام اور اس کے مد بر بالا رادہ ہونے پر نشانات ہیں۔