حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 582 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 582

582 اب دیکھئے اس آیت میں اللہ جل شانہ نے اپنے اس اصول ایمانی پر کیسا استدلال اپنے اس قانون قدرت سے کیا یعنی اپنے ان مصنوعات سے جو زمین و آسمان میں پائی جاتی ہیں جن کے دیکھنے سے مطابق منشاء اس آیت کریمہ کے صاف صاف طور پر معلوم ہوتا ہے کہ بیشک اس عالم کا ایک صانع قدیم اور کامل اور وحدہ لاشریک اور مد بر بالا رادہ اور اپنے رسولوں کو دنیا میں بھیجنے والا ہے۔وجہ یہ کہ خدا تعالیٰ کی تمام یہ مصنوعات اور یہ سلسلہ نظام عالم کا جو ہماری نظر کے سامنے موجود ہے یہ صاف طور پر بتلا رہا ہے کہ یہ عالم خود بخود نہیں بلکہ اس کا ایک موجد اور صانع ہے جس کے لیے یہ ضروری صفات ہیں کہ وہ رحمان بھی ہو اور رحیم بھی ہو اور قادر مطلق بھی ہو اور واحد لاشریک بھی ہو اور ازلی ابدی بھی ہو اور مد بر بالا رادہ بھی ہو اور مجمع جمیع صفات کاملہ بھی ہو اور وحی کو نازل کرنے والا بھی ہو۔جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 125) مخلوق کی طاقت کی حد بندی کے اعتبار سے لَهُ مُلْكُ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضِ (الحديد : (3) خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا (الفرقان :3) یعنی زمین و آسمان اور جو کچھ ان میں ہے سب خدا تعالیٰ کی ملکیت ہے کیونکہ وہ سب چیزیں اسی نے پیدا کی ہیں۔اور پھر ہر ایک مخلوق کی طاقت اور کام کی ایک حد مقرر کر دی ہے تا محدود چیزیں ایک محمد د پر دلالت کریں جو خدا تعالے ہے سو ہم دیکھتے ہیں کہ جیسا کہ اجسام اپنے اپنے حدود میں مقید ہیں اور اس حد سے باہر نہیں ہو سکتے اسی طرح ارواح بھی مقید ہیں اور اپنی مقررہ طاقتوں سے زیادہ کوئی طاقت پیدا نہیں کر سکتے۔اب پہلے ہم اجسام کے محدود ہونے کے بارہ میں بعض مثالیں پیش کرتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ مثلاً چاند ایک مہینہ میں اپنا دورہ ختم کر لیتا ہے یعنی انتیس یا تھیں دن تک مگر سورج تین سو چونسٹھ دن میں اپنے دورہ کو پورا کرتا ہے اور سورج کو یہ طاقت نہیں ہے کہ اپنے دورہ کو اس قدرکم کر دے جیسا کہ چاند کے دورہ کا مقدار ہے اور نہ چاند کی یہ طاقت ہے کہ اس قدر اپنے دورہ کے دن بڑھا دے کہ جس قدر سورج کے لیے دن مقرر ہیں اور اگر تمام دنیا اس بات کے لیے اتفاق بھی کر لے کہ ان دونوں نیروں کے دوروں میں کچھ کمی بیشی کر دیں تو یہ ہرگز ان کے لیے ممکن نہیں ہوگا اور نہ خود سورج اور چاند میں یہ طاقت ہے کہ اپنے اپنے دوروں میں کچھ تغیر وتبدل کر ڈالیں۔پس وہ ذات جس نے ان ستاروں کو اپنی اپنی حد پر ٹھہرا رکھا ہے یعنی جو ان کا محد داور حد باندھنے والا ہے وہی خدا ہے۔چشمه معرفت - ر- خ- جلد 23 صفحہ 17 وَ لَمْ يَكُن لَّهُ شَرِیک فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ فَقَدَّرَهُ تَقْدِيرًا یعنی اس کے ملک میں کوئی اس کا شریک نہیں وہ سب کا خالق ہے اور اس کے خالق ہونے پر یہ دلیل واضح ہے کہ ہر ایک چیز کو ایک اندازہ مقرری پر پیدا کیا ہے کہ جس سے وہ تجاوز نہیں کر سکتی بلکہ اسی اندازہ میں محصور اور محدود ہے۔اس دلیل کی شکل منطقی اس طرح پر ہے کہ ہر جسم اور روح ایک اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہے اور ہر ایک وہ چیز کہ کسی اندازہ مقرری میں محصور اور محدود ہو اس کا کوئی حاصر اور محمد دضرور ہوتا ہے نتیجہ یہ ہوا کہ ہر ایک جسم اور روح کے لئے ایک حاصر اور محد د ہے۔پرانی تحریریں۔ر۔خ۔جلد 2 صفحہ 8)