حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 580 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 580

580 ثبوت ہستی باری تعالی خدا تعالیٰ کی شناخت فطرتی ہے وَ إِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِي آدَمَ مِنْ ظُهُورِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمُ وَ أَشْهَدَهُمْ عَلَى أَنْفُسِهِمُ السُتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى شَهِدْنَا اَنْ تَقُولُوا يَوْمَ الْقِيمَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هَذَا عَفِلِينَ۔(الاعراف:173) اَلَستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی (الجزو نمبر 9) هر یک روح نے ربوبیت الہیہ کا اقرار کیا۔کسی نے انکار نہ کیا۔یہ بھی فطرتی اقرار کی طرف اشارہ ہے۔( براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 185-184 حاشیہ نمبر 11) انسان تعبد ابدی کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور طبعی طور پر اس کے دل میں خدا تعالیٰ کی محبت موجود ہے۔ނ پس اس وجہ سے انسان کی روح کو خدا تعالے سے ایک تعلق ازلی ہے جیسا کہ آیت اَلَسْتُ بِرَبِّكُمُ قَالُوا بَلَى - (براہین احمد یہ رخ - جلد 21 صفحہ 200 ) ظاہر ہوتا ہے۔وہ خدا جس کا پتہ قرآن شریف بتلاتا ہے اپنی موجودات پر فقط قہری حکومت نہیں رکھتا بلکہ موافق آیت کریمہ الَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلی (الاعراف: 173) کے ہر یک ذرہ ذرہ اپنی طبیعت اور روحانیت سے اس کا حکم بردار ہے۔اس کی طرف جھکنے کے لیے ہر یک طبیعت میں ایک کشش پائی جاتی ہے اس کشش سے ایک ذرہ بھی خالی نہیں اور یہ ایک بڑی دلیل اس بات پر ہے کہ وہ ہر یک چیز کا خالق ہے۔کیونکہ نور قلب اس بات کو مانتا ہے کہ وہ کشش جو اس کی طرف جھکنے کے لیے تمام چیزوں میں پائی جاتی ہے وہ بلاشبہ اسی کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن شریف نے اس آیت میں اسی بات کی طرف اشارہ کیا ہے۔کہ اِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا يُسَبِّحُ بِحَمدِه۔(بنی اسرائیل :45) یعنی هر یک چیز اس کی پاکی اور اس کے محامد بیان کر رہی ہے اگر خدا ان چیزوں کا خالق نہیں تھا تو ان چیزوں میں خدا کی طرف کشش کیوں پائی جاتی ہے ایک غور کرنے والا انسان ضرور اس بات کو قبول کرلے گا کہ کسی مخفی تعلق کی وجہ سے یہ کشش ہے پس اگر وہ تعلق خدا کا خالق ہونا نہیں تو کوئی آریہ وغیرہ اس بات کا جواب دیں کہ اس تعلق کی وید وغیرہ میں کیا ماہیت لکھی ہے اور اس کا کیا نام ہے۔(رسالہ معیار المذاہب۔ر۔خ۔جلد 9 صفحہ 487-486) نجات کا تمام مدار خدا تعالیٰ کی محبت ذاتیہ پر ہے اور محبت ذاتیہ اس محبت کا نام ہے جو روحوں کی فطرت میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مخلوق ہے پھر جس حالت میں ارواح پر میشر کی مخلوق ہی نہیں ہیں تو پھر ان کی فطرتی محبت پر میشر سے کیونکر ہوسکتی ہے اور کب اور کس وقت پر میشر نے ان کی فطرت کے اندر ہاتھ ڈال کر یہ محبت اس میں رکھ دی یہ تو غیر ممکن ہے وجہ یہ کہ فطرتی محبت اس محبت کا نام ہے جو فطرت کے ساتھ ہمیشہ سے لگی ہوئی ہو اور پیچھے سے لاحق نہ ہو جیسا کہ اسی کی طرف اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں اشارہ فرماتا ہے جیسا کہ اس کا یہ قول ہے الستُ بِرَبِّكُمْ قَالُوا بَلَى (الاعراف: 173) یعنی میں نے روحوں سے سوال کیا کہ کیا میں تمہارا پیدا کنندہ نہیں ہوں تو روحوں نے جواب دیا کہ کیوں نہیں۔اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ انسانی روح کی فطرت میں یہ شہادت موجود ہے کہ اس کا خدا پیدا کنندہ ہے۔پس روح کو اپنے پیدا کنندہ سے طبعا وفطر تا محبت ہے اس لیے کہ وہ اس کی پیدائش ہے۔(چشمہ مسیحی۔رخ۔جلد 20 صفحہ 364-363)