حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 529
529 (ترجمه) - (وَ أحْيِ الْمَوْتَى باذن الله ) جان لو کہ ہم احیاء اعجازی اور خلق اعجازی پر ایمان لاتے ہیں نہ کہ حقیقی طور پر زندہ کرنے اور پیدا کرنے پر جیسا کہ خدا تعالیٰ زندہ کرتا ہے اور پیدا کرتا ہے۔کیونکہ اگر ایسا ہو تو یہ احیاء اور خلق ( خدا تعالیٰ کے خلق اور احیاء سے متشابہ ہو جاتے۔اللہ تعالیٰ نے فَيَكُونُ طُيْرًا بِاِذْنِ اللهِ کہا ہے اور یہ ہیں کہا کہ فَيَكُونُ حَيًّا بِإِذْنِ اللهِ اور نہ یہ فرمایا کہ فَيَصِيرُ طَيْرًا بِإِذْنِ اللہ۔اور عیسی علیہ السلام کے پرندوں کی مثال حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کی مثال ہے جو بھاگتے ہوئے سانپ کی شکل میں ظاہر ہوا لیکن اس نے ہمیشہ کے لیے اپنی پہلی سیرت کو چھوڑ نہیں دیا تھا۔اور اسی طرح محققین نے کہا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کے پرندے جب تک لوگوں کی آنکھوں کے سامنے رہتے تھے اڑتے تھے اور جونہی وہ نظروں سے غائب ہوتے۔نیچے گر جاتے اور اپنی پہلی حالت کی طرف لوٹ آتے۔پھر ان پرندوں کو حقیقی زندگی کہاں حاصل ہوئی تھی یہی حقیقت ان کے مردے زندہ کرنے کی ہے یعنی انہوں نے کسی مردہ میں کبھی تمام لوازمات زندگی دوبارہ نہیں لوٹائے۔بلکہ ان کی پاکیزہ روح کی تاثیر سے مردہ میں زندگی کا ایک جلوہ دکھلایا جاتا تھا اور وہ مردہ اس وقت تک زندہ رہتا تھا جب تک حضرت عیسی علیہ السلام اس کے پاس کھڑے یا بیٹھے رہتے۔جب آپ وہاں سے چلے جاتے تو مردہ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آتا اور مرجاتا پس یہ زندہ کرنا احیاء اعجازی تھا حقیقی نہ تھا۔معجزات اور خوارق قُلْنَا يَنَارُ كُونِي بَرُدًا وَّ سَلَمًا عَلَى إِبْرَاهِيمَ۔(الانبياء: 70 ) اس دقیقہ کو دنیا کی عقل نہیں سمجھ سکتی کہ انسان کامل خدا تعالیٰ کے روح کا جلوہ گاہ ہوتا ہے اور جب کبھی کامل انسان پر ایک ایسا وقت آ جاتا ہے کہ وہ اس جلوہ کا عین وقت ہوتا ہے تو اس وقت ہر ایک چیز اس سے ایسی ڈرتی ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ سے۔اس وقت اس کو درندہ کے آگے ڈال دو۔آگ میں ڈال دو وہ اس سے کچھ بھی نقصان نہیں اٹھائے گا کیونکہ اس وقت خدا تعالیٰ کی روح اس پر ہوتی ہے اور ہر یک چیز کا عہد ہے کہ اس سے ڈرے۔یہ معرفت کا ایک اخیری بھید ہے جو بغیر صحبت کا ملین سمجھ میں نہیں آ سکتا۔چونکہ یہ نہایت دقیق اور پھر نہایت درجہ نادر الوقوع ہے اس لئے ہر ایک فہم اس فلاسفی سے آگاہ نہیں مگر یہ یاد رکھو کہ ہر یک چیز خدا تعالیٰ کی آواز سنتی ہے۔ہر یک چیز پر خدا تعالیٰ کا تصرف ہے اور ہر یک چیز کی تمام ڈوریاں خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں اس کی حکمت ایک بے انتہاء حکمت ہے جو ہر یک ذرہ کی جڑھ تک پہنچی ہوئی ہے اور ہر ایک چیز میں اتنی ہی خاصیتیں ہیں جتنی اس کی قدرتیں ہیں۔جو شخص اس بات پر ایمان نہیں لاتا وہ اس گروہ میں داخل ہے جو مَا قَدَرُوا اللهَ حَقَّ قَدْرِهِ (الانعام:92) کے مصداق ہیں اور چونکہ انسان کامل مظہر اتم تمام عالم کا ہوتا ہے اس لئے تمام عالم اس کی طرف وقتا فوقتا کھینچ جاتا ہے۔وہ روحانی عالم کا ایک عنکبوت ہوتا ہے اور تمام عالم اس کی تاریں ہوتی ہیں اور خوارق کا یہی سر ہے۔بر کاروبار ہستی اثری ست عارفان را زجہاں چہ دید آں کس کہ ندید ایں جہاں را ( ترجمہ: - زندگی کے کاروبار میں عارفین مؤثر ہوتے ہیں۔جس نے یہ مشاہدہ نہیں کیا اس نے دنیا میں کیا دیکھا ہے۔) ( برکات الدعا۔رخ- جلد 6 صفحہ 31-30 حاشیہ )