حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 530 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 530

530 خدا راست آں بندگان کرام که از بهر شان می کند صبح و شام خدا کے نیک بندے ایسے بھی ہیں جن کے لیے خدا صبح و شام کو پیدا کرتا ہے۔بنگرند جہانے بد بنال خودم بدنبال چشمے چومے جب وہ کن آنکھیوں سے دیکھتے ہیں تو ایک جہاں کو اپنے پیچھے کھینچ لیتے ہیں۔دراو شاں اظہار ہر خیر وشر خیر وشر نهادست حق بگفتن خاصیت ان میں نیکی اور بدی کے اظہار کے لیے خدا تعالے نے مخفی خاصیت رکھ دی ہے۔خدا نیستند ولی از خدا ہم اگر چہ کہنے کو وہ خدا نہیں ہیں لیکن خدا سے جدا بھی نہیں ہیں۔کشند مستتر نیستند در مشین فارسی مترجم صفحه 322( اخبار بدر جلد 8 نمبر 27 مورخہ 29 اپریل 1909) پیشگوئی اور نشان وَقَالَ رَجُلٌ مُّؤْمِنْ مِّنْ آلِ فِرْعَوْنَ يَكْتُمُ إِيْمَانَهُ أَتَقْتُلُونَ رَجُلًا أَنْ يَقُولَ رَبِّيَ اللهُ وَقَدْ جَاءَ كُمُ بِالْبَيِّنَتِ مِنْ رَّبِّكُمُ ، وَ إِنْ يَكُ كَاذِبًا فَعَلَيْهِ كَذِبُهُ وَ إِنْ يَكُ صَادِقًا يُصِبُكُمُ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمْ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي مَنْ هُوَ مُسْرِقٌ كَذَّابٌ۔(المومن: 29) پیشگوئی کا منصب اگر یہ صحیح ہے کہ خدا صادق کا حامی ہوتا ہے اور اپنے وعدوں کو پورا کرتا ہے نہ افتراؤں کو۔تو اس اصول کو ماننا ایک منصف کے لئے ضروری ہوگا کہ جو پیشگوئی خدا کے نام پر کی جائے اور وہ پوری ہو جائے تو وہ خدا کی طرف سے ہے اور اگر اس اصول کو نہ مانا جائے تو خدا کی ساری کتابیں بے دلیل رہ جائیں گی اور ان کی سچائی پر یقین کرنے کی راہیں بند ہو جائیں گی۔اسی کی طرف خدا تعالیٰ اشارہ فرماتا ہے اور کہتا ہے وَ اِنْ يَّكَ صَادِقًا يُصِبُكُمُ بَعْضُ الَّذِي يَعِدُكُمُ یعنی صادق کی یہ نشانی ہے کہ اس کی بعض پیشگوئیاں پوری ہو جاتی ہیں۔بعض کی شرط اس لئے لگا دی کہ وعید کی پیشگوئیوں میں رجوع اور توبہ کی حالت میں عذاب کا تخلف جائز ہے گو کوئی بھی شرط نہ ہو پس ممکن ہے عذاب کی پیشگوئیاں ملتوی رکھی جائیں اور اپنی میعاد کے اندر پوری نہ ہوں جیسا کہ یونس کی قوم کے لئے ہوا۔غرض خدا کے نام پر جو پیشگوئی پوری ہو جائے اس کی نسبت شک کرنا اور اس کو اتفاق پر محمول کر دینا گویا خدا تعالیٰ کے دینی انتظام پر ایک حملہ ہے اور نبوت کی تمام عمارت کو گرانے کا ارادہ ہے۔(استفتاء۔رخ۔جلد 12 صفحہ 112)