حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 481
481 (ترجمہ) یعنی تمام کے تمام رسول فوت ہو گئے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اس آیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت استدلال کیا تھا پس اس کے بعد اگر تم اللہ تعالیٰ پر اور اس کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو حضرت مسیح کی وفات اور مسیح کے واپس نہ آنے کے متعلق کوئی شک باقی نہیں رہتا۔بخاری میں عبد اللہ بن عباس کے قول سے ثابت ہو چکا ہے کہ يَا عِيسَى إِنِّي مُتَوَفِّيكَ کے یہ معنے ہیں کہ اے عیسی میں تجھے وفات دوں گا۔چنانچہ امام بخاری نے اسی مقام میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث لکھ کر جس میں كَمَا قَالَ الْعَبُدُ الصَّالِحُ ہے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ یہی معنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کیے ہیں۔پھر بعد اس کے جو حضرت عیسی کی وفات کے بارے میں قرآن نے فرمایا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور عبداللہ بن عباس کے قول میں بھی یہی آیا دوسرے معنے کرنے یہودیوں کی طرح ایک خیانت ہے۔غور کر کے دیکھ لو کہ تمام قرآن میں بجز روح قبض کرنے کے توفی کے اور کوئی معنے نہیں۔تمام حدیثوں میں بجز مارنے کے اور کسی محل میں تو فی کا لفظ استعمال نہیں کیا گیا۔تمام لغت کی کتابوں میں یہی لکھا ہے کہ جب خدا تعالیٰ فاعل ہو اور کوئی انسان مفعول به مثلاً یہ قول ہو کہ توفی اللہ زیدا تو بجز روح قبض کرنے اور مارنے کے اور کوئی معنے نہیں لیے جاویں گے۔پس جب اس صراحت اور تحقیق سے فیصلہ ہو چکا کہ تو فی کے معنے مارنا ہے اور آیت فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی سے ثابت ہو چکا کہ حضرت عیسی کی توفی عیسائیوں کے بگڑنے سے پہلے ہو چکی ہے یعنی وہ خدا بنائے جانے سے پہلے فوت ہو چکے ہیں تو پھر اب تک ان کی وفات کو قبول نہ کرنا یہ طریق بحث نہیں بلکہ بے حیائی کی قسم ہے۔خدا تعالیٰ نے چونکہ ان لوگوں کو ذلیل کرنا تھا کہ جو خواہ مخواہ حضرت عیسی کی حیات کے قائل ہیں اس لیے اس نے نہ ایک پہلو سے بلکہ بہت سے پہلوؤں سے حضرت عیسی کی موت کو ثابت کیا۔توفی کے لفظ سے موت ثابت ہوئی اور پھر آیت وَ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْخَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ۔(ال عمران : 145) سے موت ثابت ہوئی۔پھر قرآن شریف کی آیت فِيْهَا تَحْيَونَ (الاعراف: 26) سے موت ثابت ہوئی۔اور پھر قرآن شریف کی آیت وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ (البقرة : 37) سے موت ثابت ہوئی کیونکہ ان دونوں آیتوں سے ثابت ہوا کہ آسمان پر جسمانی زندگی اور قرار گاہ کسی انسان کا نہیں ہو سکتا۔الصل ایام اسح۔رخ- جلد 14 صفحہ 385-383) امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ ) اسی غرض سے آیہ کریمہ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنْتَ أَنْتَ الرَّقِيْبَ عَلَيْهِمُ کو کتاب التفسیر میں لایا ہے اور اس ایراد سے ان کا منشا یہ ہے کہ تا لوگوں پر ظاہر کرے کہ تَوَفَّيْتَنِی کے لفظ کی صحیح تغییر وہی ہے جس کی طرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ فرماتے ہیں یعنی مار دیا اور وفات دیدی اور حدیث یہ ہے۔عن ابن عباس انه يجاء برجال من امتى فيؤخذ بهم ذات الشمال فاقول يارب اصیحابی فیقال