حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 13 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 13

13 لکھی جتنے نہیں؟ بلاشبہ وہ عجائبات تمام مخلوقات کے مجموعی عجائبات سے بہت بڑھ کر ہیں اور ان کا انکار در حقیقت قرآن کریم کے منجانب اللہ ہونے کا انکار ہے کیونکہ دنیا میں کوئی بھی ایسی چیز نہیں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے صادر ہو اور اس میں بے انتہا عجائبات نہ پائے جائیں وہ نکات و حقائق جو معرفت کو زیادہ کرتے ہیں وہ ہمیشہ حسب ضرورت کھلتے رہتے ہیں۔اور نئے نئے فسادوں کے وقت نئے نئے پر حکمت معانی بمنصہ ظہور آتے رہتے ہیں۔یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن کریم بذات خود معجزہ ہے۔اور بڑی بھاری وجہ اعجاز کی اس میں یہ ہے کہ وہ جامع حقائق غیر متناہیہ ہے مگر بغیر وقت کے وہ ظاہر نہیں ہوتے۔جیسے جیسے وقت کے مشکلات تقاضا کرتے ہیں وہ معارف خفیہ ظاہر ہوتے جاتے ہیں۔دیکھو دینوی علوم جوا کثر مخالف قرآن کریم اور غفلت میں ڈالنے والے کیسے آجکل ایک زور سے ترقی کر رہے ہیں۔اور زمانہ اپنے علوم ریاضی اور طبعی اور فلسفہ کی تحقیقاتوں میں کیسی ایک عجیب طور کی تبدیلیاں دکھلا رہا ہے کیا ایسے نازک وقت میں ضرور نہ تھا کہ ایمانی اور عرفانی ترقیات کے لئے بھی دروازہ کھولا جاتا تا شرور محدثہ کی مدافعت کے لئے آسانی پیدا ہو جاتی۔سو یقیناً سمجھو کہ وہ دروازہ کھولا گیا ہے۔اور خدا تعالیٰ نے ارادہ کر لیا ہے کہ تا قرآن کریم کے عجائبات مخفیہ اس دنیا کے متکبر فلسفیوں پر ظاہر کرے۔اب نیم ملاں دشمن اسلام اس ارادہ کو روک نہیں سکتے۔اگر اپنی شرارتوں سے باز نہیں آئینگے تو ہلاک کئے جائینگے اور قہری طمانچہ حضرت قہار کا ایسا لگے گا کہ خاک میں مل جائیں گے۔ان نادانوں کو حالت موجودہ پر بالکل نظر نہیں۔چاہتے ہیں کہ قرآن کریم مغلوب اور کمزور اور ضعیف اور حقیر سا نظر آوے لیکن اب وہ ایک جنگی بہادر کی طرح نکلے گا۔ہاں وہ ایک شیر کہ طرح میدان میں آئے گا اور دنیا کے تمام فلسفہ کو کھا جائے گا اور اپنا غلبہ دکھائے گا اور لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّيْنِ كُلَّه (الصف:10) کی پیشگوئی پوری کرے گا۔اور پیشگوئی وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمْ (النور : 56) کو روحانی طور سے کمال تک پہنچائے گا۔کیونکہ دین کا زمین پر بوجہ کمال قائم ہو جانا محض جبر و اکراہ سے ممکن نہیں۔دین اس وقت زمین پر قائم ہوتا ہے کہ جب اس کے مقابل پر کوئی دین کھڑا نہ رہے اور تمام مخالف سپر ڈال دیں۔سواب وہی وقت آگیا۔اب وہ وقت نادان مولویوں کے روکنے سے رک نہیں سکتا۔اب وہ ابن مریم جس کا روحانی باپ زمین پر بجر معلم حقیقی کے کوئی نہیں جو اس وجہ سے آدم سے بھی مشابہت رکھتا ہے بہت سا خزانہ قرآن کریم کا لوگوں میں تقسیم کرے گا۔یہاں تک کہ لوگ قبول کرتے کرتے تھک جائیں گے۔اور لا یقبلہ احد کا مصداق بن جائیں گے اور ہر یک طبیعت اپنے ظرف کے مطابق پُر ہو جائیگی۔(ازالہ اوہام - رخ جلد 3 صفحہ 467464) اشعار حضرت اقدس اک کرم کر پھیر دے لوگوں کو فرقاں کی طرف نیز دے توفیق تا وہ کچھ کریں سوچ اور بیچار ایک فرقاں ہے جو شک اور ریب سے وہ پاک ہے بعد اسکے ظن غالب کو ہیں کرتے اختیار پھر یہ نقلیں بھی اگر میری طرف سے پیش ہوں تنگ ہو جائے مخالف پر مجال کارزار باغ مُرجھایا ہوا تھا گر گئے تھے سب ثمر میں خدا کا فضل لایا پھر ہوئے پیدا ثمار مرہم عیلے نے دی تھی محض عیسی کو شفا میری مرہم سے شفا پائیگا ہر ملک و دیار جھانکتے تھے نُور کو وہ روزن دیوار سے لیک جب در کھل گئے پھر ہوگئے شیر شعار وہ خزائن جو ہزاروں سال سے مدفون تھے اب میں دیتا ہوں اگر کوئی ملے اُمیدوار در نشین اردو ) ( براہین احمدیہ حصہ پنجم۔رخ جلد 21 صفحہ 147)