حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 12
12 آپ کے وقت میں حقائق قرآنیہ ظاہر ہوں گے ( ملفوظات جلد اول صفحہ 25) لیکن افسوس ہے کہ جیسے حدیث میں آیا ہے کہ ایک درمیانی زمانہ آوے گا جو صحیح اعوج ہے۔یعنی حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ ایک میرا زمانہ برکت والا ہے۔ایک آنے والے مسیح و مہدی کا مسیح و مہدی کوئی دوا لگ اشخاص نہیں ان سے مراد ایک ہی ہے۔مہدی ہدایت یافتہ سے مراد ہے۔کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ مسیح مہدی نہیں۔مہدی مسیح ہو یا نہ ہو، لیکن مسیح کے مہدی ہونے سے انکار کرنا مسلمان کا کام نہیں۔اصل میں اللہ تعالیٰ نے یہ دو الفاظ سب وشتم کے مقابل بطور ذب کے رکھے ہیں کہ وہ کا فر ، ضال مضل نہیں۔بلکہ مہدی ہے۔چونکہ اس کے علم میں تھا کہ آنیوالے مسیح و مہدی کو دجال و گمراہ کہا جائے گا ، اس لئے اسے مسیح مہدی کہا گیا۔دجال کا تعلق اخْلَدَ إِلَى الْأَرْضِ (الاعراف :177) سے تھا اور مسیح کا رفع آسانی ہونا تھا۔سوجو کچھ الہ تعالیٰ نے چاہا تھا اس کی تکمیل دو ہی زمانوں میں ہونی تھی۔ایک آپ کا زمانہ اور ایک آخری مسیح مہدی کا زمانہ۔یعنی ایک زمانے میں تو قرآن اور کچی تعلیم نازل ہوئی لیکن اس پر نتیج اعواج کے زمانہ نے پردہ ڈال دیا۔جس پر وہ کا اٹھایا جانا مسیح کے زمانہ میں مقدر تھا۔جیسے کہ فرمایا کہ رسول اکرم ﷺ نے ایک تو موجودہ جماعت یعنی جماعت صحابہ کرام کا تزکیہ کیا اور ایک آنیوالی جماعت کا جس کی شان میں لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِمْ (الجمعہ: 4 ) آیا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے بشارت دی کہ ضلالت کے وقت اللہ تعالیٰ اس دین کو ضائع نہ کرے گا۔بلکہ آنیوالے زمانہ میں خدا تعالیٰ حقائق قرآنیہ کو کھول دے گا۔آثار میں ہے۔کہ آنے والے مسیح کی ایک یہ فضیلت ہوگی۔کہ وہ قرآنی فہم اور معارف کا صاحب ہوگا اور صرف قرآن سے استنباط کر کے لوگوں کو ان کی غلطیوں سے متنبہ کرے گا۔جو حقائق قرآن کی نا واقفیت سے لوگوں میں پیدا ہوگئی ہوں گی۔حضرت اقدس قرآن کریم کے خزانوں کو تقسیم کرنے کیلئے مبعوث ہوئے ہیں یہی زمانہ ہے کہ جس میں ہزار ہا قسم کے اعتراضات اور شبہات پیدا ہو گئے ہیں۔اور انواع واقسام کے عقلی حملے اسلام پر کئے گئے ہیں۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِنْدَنَا خَزَائِنُهُ ۚ وَمَا نُنَزِّلُهُ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ - (الحجر:22 ) یعنی ہر ایک چیز کے ہمارے پاس خزانے ہیں مگر بقدر معلوم اور بقد رضرورت ہم ان کو اتارتے ہیں۔سو جس قدر معارف و حقائق بطون قرآن میں چھپے ہوئے ہیں جو ہر ایک قسم کے ادیان فلسفیہ وغیر فلسفیہ کو مقہور و مغلوب کرتے ہیں۔ان کے ظہور کا زمانہ یہی تھا۔کیونکہ وہ بجز تحریک پیش آمدہ کے ظاہر نہیں ہو سکتے تھے۔اب مخالفانہ حملے جو نئے فلسفہ کی طرف سے ہوئے تو ان معارف کے ظاہر ہونے کا وقت آگیا اور ممکن نہیں تھا کہ بغیر اس کے کہ وہ معارف ظاہر ہوں اسلام تمام ادیان باطلہ پر فتح پاسکے کیونکہ سیفی فتح کچھ چیز نہیں اور چند روزہ اقبال کے دور ہونے سے وہ فتح بھی معدوم ہو جاتی ہے۔بچی اور حقیقی مفتح وہ ہے جو معارف اور حقائق اور کامل صداقتوں کے لشکر کے ساتھ حاصل ہو۔سو وہ یہ فتح ہے جواب اسلام کو نصیب ہو رہی ہے۔بلاشبہ یہ پیشگوئی اس زمانہ کے حق میں ہے۔اور سلف صالح بھی ایسا ہی سمجھتے آئے ہیں۔یہ زمانہ در حقیقت ایسا زمانہ ہے جو بالطبع تقاضا کر رہا ہے جو قرآن شریف ان تمام بطون کو ظاہر کرے جو اس کے اندر مخفی چلے آتے ہیں یہ بات ہر ایک فہم کو جلدی سمجھ میں آسکتی ہے کہ اللہ جل شانہ کے کوئی مصنوع دقائق وغرائب خواص سے خالی نہیں۔اور اگر ایک مکھی کے خواص و عجائبات کی قیامت تک تفتیش و تحقیقات کرتے جائیں تو بھی بھی ختم نہیں ہو سکتی۔تو اب سوچنا چاہیئے کہ کیا خواص و عجائبات قرآن کریم کے اپنے قدر و انداز میں