حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 334 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 334

334 قرآن ذو المعارف ہے قرآن شریف ذوالمعارف ہے اور کئی وجوہ سے اس کے معنے ہوتے ہیں جو ایک دوسرے کی ضد نہیں اور جس طرح قرآن شریف یک دفعہ نہیں اترا اسی طرح اسکے معارف بھی دلوں پر یکدفعہ نہیں اترتے۔( نزول المسیح۔ر۔خ۔جلد 18 صفحہ 421) جس طرح اللہ تعالیٰ نے نباتات وغیرہ میں کئی قسم کے خواص رکھے ہیں مثلاً ایک بوٹی دماغ کو قوت دیتی ہے اور ساتھ ہی جگر کو بھی مفید ہے اسی طرح قرآن شریف کے ہر ایک آیت مختلف قسم کے معارف پر دلالت کرتی ہے۔نزول المسیح - ر-خ- جلد 18 صفحہ نمبر 421 حاشیہ) وَإِذَا وَقَعَ الْقَوْلُ عَلَيْهِمْ اَخْرَجْنَا لَهُمْ دَابَّةٌ مِّنَ الْأَرْضِ تُكَلِّمُهُمْ اَنَّ النَّاسَ كَانُوا بِايْتِنَا لَا يُوْقِنُونَ۔(النمل: 83) علم غیب خدا تعالیٰ کا خاصہ ہے جس قدر وہ دیتا ہے اسی قدر ہم لیتے ہیں۔پہلے اسی نے غیب سے مجھے یہ فہم عطا کیا کہ ایسے ست زندگی والے جو خدا اور اس کے رسول پر ایمان تولاتے ہیں مگر عملی حالت میں بہت کمزور ہیں یہ دابتہ الارض ہیں یعنی زمین کے کیڑے ہیں آسمان سے انکو کچھ حصہ نہیں۔اور مقدر تھا کہ آخری زمانہ میں یہ لوگ بہت ہو جائیں گے اور اپنے ہونٹوں سے اسلام کی شہادت دینگے مگر انکے دل تاریکی میں ہو نگے۔یہ تو وہ معنی ہیں جو پہلے ہم نے شائع کئے اور یہ معنے بجائے خود صحیح اور درست ہیں۔اب ایک اور معنے خدا تعالیٰ کی طرف سے اس آیت کے متعلق کھلے جن کو ابھی ہم نے بیان کر دیا ہے یعنی یہ کہ دابتہ الارض سے مراد وہ کیڑا بھی ہے جو مقدر تھا جو مسیح موعود کے وقت میں زمین میں سے نکلے اور دنیا کو انکی بداعمالیوں کیوجہ سے تباہ کرے۔یہ خوب یا د ر کھنے کے لائق ہے کہ جیسی یہ آیت دو معنوں پر مشتمل ہے ایسے ہی صدہا نمو نے اسی قسم کے کلام الہی میں پائے جاتے ہیں اور اسی وجہ سے اسکو معجزانہ کلام کہا جاتا ہے جو ایک ایک آیت دس دس پہلو پر مشتمل ہوتی ہے اور وہ تمام پہلو سچ ہوتے ہیں بلکہ قرآن شریف کے حروف اور انکے اعداد بھی معارف مخفیہ سے خالی نہیں ہوتے۔نزول المسیح۔رخ - جلد 18 صفحہ 422-421) حدیث رسول کے مطابق ابن سعد نے اپنی کتاب طبقات میں اور ابونعیم نے اپنی کتاب حلیہ میں ابی قلابہ سے روایت کی ہے کہ ابو الدرداء نے کہا ہے کہ انک لاتـفـقـه كـل الـفـقـه حتى ترى للقرآن وجوها یعنی تجھ کو قرآن کا پورا ہم کبھی عطا نہیں ہو گا جب تک تجھ پر یہ نہ کھلے کہ قرآن کئی وجوہ پر اپنے معنے رکھتا ہے۔ایسا ہی مشکوۃ میں یہ مشہور حدیث ہے کہ قرآن کے لئے ظہر اور بطن ہے اور وہ علم اولین اور آخرین پر مشتمل ہے۔(تحفہ گولڑویہ۔ر۔خ۔جلد 17 صفحہ 216 حاشیہ )