حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 335
335 قرآن کریم۔ذوالمعارف وذو المعانی ہے۔۔۔۔امثال وذ۔۔۔وَجَدَهَا تَغْرُبُ فِيْ عَيْنِ حَمِئَةٍ (الكيف: 87) پس واضح ہو کہ آیت قرآنی بہت سے اسرار اپنے اندر رکھتی ہے جس کا احاطہ نہیں ہو سکتا اور جس کے ظاہر کے نیچے ایک باطن بھی ہے لیکن وہ معنے جو خدا نے میرے پر ظاہر فرمائے ہیں وہ یہ ہیں کہ یہ آیت مع اپنے سابق اور لاحق کے مسیح موعود کے لئے ایک پیشگوئی ہے اور اس کے وقت ظہور کو مشخص کرتی ہے اور اس کی تفصیل یہ ہے کہ مسیح موعود بھی ذوالقرنین ہے کیونکہ قرن عربی زبان میں صدی کو کہتے ہیں اور آیت قرآنی میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وہ وعدہ کا مسیح جو کسی وقت ظاہر ہو گا اس کی پیدائش اور اس کا ظاہر ہونا دوصدیوں پر مشتمل ہوگا چنانچہ میرا وجو داسی طرح پر ہے۔(لیکچر لاہور۔ر۔خ۔جلد 20 صفحہ 199 حاشیہ ) ثُمَّ إِنَّكُمْ بَعْدَ ذَلِكَ لَمَيِّتُوْنَ۔(سورة المومنون: 16) پھر یقینا تم بعد اس کے البتہ مرنے والے ہو موت کا لفظ قرآن کریم میں ذوالوجوہ ہے۔کا فرکا نام بھی مردہ رکھا ہے اور ہوا و ہوس سے مرنا بھی ایک قسم کی موت ہے اور قریب الموت کا نام بھی میت ہے اور یہی تینوں وجوہ استعمال حیات میں بھی پائی جاتی یعنی (ازالہ اوھام - ر- خ - جلد 3 صفحہ 445) حیات بھی تین قسم کی ہیں۔وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ 28 إِلَّا مَنْ شَاءَ اللهُ ، ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُوْنَ۔(الزمر: 69) پھر بارھویں علامت مسیح موعود کا پیدا ہوتا ہے جس کو کلام الہی میں نفخ صور کے استعارہ میں بیان کیا گیا ہے۔اور نفخ حقیقت میں دو قسم پر ہے۔ایک نفخ اضلال اور ایک نفع ہدایت۔جیسا کہ اس آیت میں اس کی طرف اشارہ ہے۔وَ نُفِخَ فِي الصُّوْرِ فَصَعِقَ مَنْ فِي السَّمَوَاتِ وَ مَنْ فِي الْأَرْضِ إِلَّا مَنْ شَاءَ اللَّهُ ثُمَّ نُفِخَ فِيْهِ أُخْرَى فَإِذَا هُمْ قِيَامٌ يَنْظُرُونَ۔یہ آیتیں ذوالوجوہ ہیں قیامت سے بھی تعلق رکھتی ہیں اور اس عالم سے بھی۔جیسا کہ آیت اِعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يُحْيِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا (الحديد : 18) اور جیسا کہ آیت فَسَالَتْ أَوْدِيَةٌ بِقَدَرِهَا۔(الرعد: 18) اور اس عالم کے لحاظ سے ان آیتوں کے یہ معنی ہیں کہ آخری دنوں میں دوزمانے آئیں گے۔ایک ضلالت کا زمانہ اور اس زمانہ میں ہر ایک زمینی اور آسمانی یعنے شقی اور سعید پر غفلت سی طاری ہوگی مگر جس کو خدا محفوظ رکھے اور پھر دوسرا زمانہ ہدایت کا آئیگا۔پس ناگاہ لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور دیکھتے ہو نگے۔یعنی غفلت دور ہو جائے گی اور دلوں میں معرفت داخل ہو جائے گی۔اور شقی اپنی شقاوت پر متنبہ ہو جائیں گے گوایمان نہ لاویں۔شہادت القران-ر-خ- جلد 6 صفحہ 321)