حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 328 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 328

328 اِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ لِلْعَلَمِيْنَ۔لِمَنْ شَاءَ مِنْكُمْ أَنْ يَسْتَقِيمَ۔(التكوير: 28 29) قرآن - ذِكْرٌ لِلْعَالَمِینَ ہے یعنی ہر ایک قسم کی فطرت کو اس کے کمالات مطلوبہ یاد دلاتا ہے اور ہر یک رتبہ کا آدمی اس سے فائدہ اٹھاتا ہے۔جیسے ایک عامی ویسا ہی ایک فلسفی۔یہ اس شخص کے لئے اترا ہے جو انسانی استقامت کو اپنے اندر حاصل کرنا چاہتا ہے یعنی انسانی درخت کی جس قدر شاخیں ہیں یہ کلام ان سب شاخوں کا پرورش کرنے والا اور حد اعتدال پر لانے والا ہے اور انسانی قومی کے ہریک پہلو پر اپنی تربیت کا اثر ڈالتا ہے۔کرامات الصادقین - ر - خ - جلد 7 صفحہ 52) تفاوت مراتب کی حکمت مَالَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلَّهِ وَقَارًا۔وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا۔(نوح:15-14) حکمت تفاوت مراتب رکھنے میں انواع و اقسام کی قدرتوں کا ظاہر کرنا اور اپنی عظمت کی طرف توجہ دلانا ہے جیسا فرمایا مَالَكُمْ لَا تَرْجُوْنَ لِلَّهِ وَقَارًا۔وَقَدْ خَلَقَكُمْ أَطْوَارًا۔یعنی تم کو کیا ہو گیا کہ تم خدا کی عظمت کے قائل نہیں ہوتے حالانکہ اس نے اپنی عظمت ظاہر کرنے کے لئے تم کو مختلف صورتوں اور سیرتوں پر پیدا کیا۔یعنی اختلاف استعدادات وطبائع اسی غرض سے حکیم مطلق نے کیا تا اس کی عظمت و قدرت شناخت کی جائے۔( براہین احمدیہ۔رخ - جلد 1 صفحہ 207-206 حاشیہ نمبر 11) قرآن کی وہ تعلیم جو مدارا ایمان ہے وہ عام فہم ہے فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُوْمِ۔وَ إِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِيْمٌ۔إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيْمٌ۔فِي كِتَب مَّكْنُوْنَ۔لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ (الواقعة: 76 تا80) اور یہ اعتراض نہیں ہوسکتا کہ اگر علم قرآن مخصوص بندوں سے خاص کیا گیا ہے تو دوسروں سے نافرمانی کی حالت میں کیونکر مواخذہ ہو گا کیونکہ قرآن کریم کی وہ تعلیم جو مدار ایمان ہے وہ عام فہم ہے جس کو ایک کا فر بھی سمجھ سکتا ہے اور ایسی نہیں ہے کہ کسی پڑھنے والے سے مخفی رہ سکے اور اگر وہ عام فہم نہ ہوتی تو کارخانہ تبلیغ ناقص رہ جاتا مگر حقائق معارف چونکہ مدار ایمان نہیں صرف زیادت عرفان کے موجب ہیں اس لئے صرف خواص کو اس کو چہ میں راہ دیا کیونکہ وہ دراصل مواہب اور روحانی نعمتیں ہیں جو ایمان کے بعد کامل الایمان لوگوں کو ملا کرتی ہیں۔کرامات الصادقین۔۔۔خ۔جلد 7 صفحہ 53) قرآن مشکل نہیں ہے فرمایا :۔بعض نادان لوگ کہا کرتے ہیں کہ ہم قرآن شریف کو نہیں سمجھ سکتے اس کی طرف توجہ نہیں کرنی چاہیئے کہ یہ بہت مشکل ہے۔یہ ان کی غلطی ہے۔قرآن شریف نے اعتقادی مسائل کو ایسی فصاحت کے ساتھ سمجھایا ہے جو بے مثل اور بے مانند ہے اور اس کے دلائل دلوں پر اثر ڈالتے ہیں یہ قرآن ایسا بلیغ اور فصیح ہے کہ عرب کے بادیہ نشینوں کو جو بالکل ان پڑھ تھے سمجھا دیا تھا تو پھر اب کیونکر اس کو نہیں سمجھ سکتے۔( ملفوظات جلد پنجم صفحه 177)