حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 327
327 چوتھی فصل فہم قرآن۔ہرانسان کی استعداد کے مطابق ہے قُلْ يَاهْلَ الْكِتَبِ تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ سَوَاءٍ بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمْ إِلَّا نَعْبُدَ إِلَّا اللَّهَ وَلَا نُشْرِكَ بِهِ شَيْئًا وَّلَا يَتَّخِذَ بَعْضُنَا بَعْضًا أَرْبَابًا مِنْ دُوْنِ اللَّهِ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقُوْلُوْا اشْهَدُوْا بِأَنَّا مُسْلِمُوْنَ (آل عمران: 65) قرآنی تعلیم کا دوسرا کمال کمال تفہیم ہے یعنی اس نے ان تمام راہوں کو سمجھانے کے لیے اختیار کیا ہے جو تصور میں آسکتے ہیں اگر ایک عامی ہے تو اپنی موٹی سمجھ کے موافق اس سے فائدہ اٹھاتا ہے اور اگر ایک فلسفی ہے تو اپنے دقیق خیال کے مطابق اس سے صداقتیں حاصل کرتا ہے اور اس نے تمام اصول ایمانیہ کو دلائل عقلیہ سے ثابت کر کے دکھلایا ہے اور آیت تَعَالَوْا إِلَى كَلِمَةٍ۔میں اہل کتاب پر یہ حجت پوری کرتا ہے کہ اسلام وہ کامل مذہب ہے کہ زوائد اختلافی جو تمہارے ہاتھ میں ہیں یا تمام دنیا کے ہاتھ میں ہیں ان زوائد کو نکال کر باقی اسلام ہی رہ جاتا ہے۔جنگ مقدس۔ر۔خ۔جلد 6 صفحہ 289) غرض اس میں شک نہیں کہ تفاضل درجات امر حق ہے۔اس کے آگے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ان امور پر مواظبت کرنے سے ہر ایک سالک اپنی اپنی استعداد کے موافق درجات اور مراتب کو پالے گا یہی مطلب ہے اس آیت کا۔ویــت كل ذي فضل فضله - (هود: 4) لیکن اگر زیادت لے کر آیا ہے تو خدا تعالیٰ اس مجاہدہ میں اس کو زیادت دے دیگا اور اپنے فضل کو پالے گا جو طبعی طور پر اس کا حق ہے۔ذی الفضل کی اضافت ملکی ہے۔مطلب یہ ہے کہ خدا تعالیٰ محروم نہ رکھے گا۔قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّي رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعَانِ الَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَواتِ وَالْأَرْضِ لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ يُحْيِ وَيُمِيْتُ فَامِنُوْا بِاللَّهِ وَ رَسُوْلِهِ النَّبِيِّ الْأُمِّيِّ ( ملفوظات جلد اول صفحہ 349) الَّذِي يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَكَلِمَتِهِ وَ اتَّبِعُوْهُ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ۔(الاعراف: 159) قُلْ يَأَيُّهَا النَّاسُ إِنِّى رَسُوْلُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيْعًا الجزو نمبر 9 پھر جبکہ ثابت ہے کہ قرآن شریف کو تمام دنیا کے طبائع سے کام پڑا تو تم خود ہی سوچو کہ اس صورت میں لازم تھا یا نہیں کہ وہ ہر یک طور کی طبیعت پر اپنی عظمت اور حقانیت کو ظاہر کرتا اور ہر ایک طور کے شبہات کو مٹاتا۔ماسوا اس کے اگر چہ اس کلام میں امی بھی مخاطب ہیں مگر یہ تو نہیں کہ خدا امیوں کوامی ہی رکھنا چاہتا تھا بلکہ وہ یہ چاہتا تھا کہ جو طاقتیں انسانیت اور عقل کی ان کی فطرت میں موجود ہیں وہ مکمن قوت سے جیز فعل میں آجائیں اگر نادان کو ہمیشہ کے لیے نادان ہی رکھنا ہے تو پھر تعلیم کا کیا فائدہ ہوا خدا نے تو علم اور حکمت کی طرف آپ ہی رغبت دیدی ہے۔(براہین احمدیہ۔ر۔خ۔جلد 1 صفحہ 493 ت498)