حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 291
291 سورة الكوثر إِنَّا أَعَطَيْنَكَ الْكَوْثَرَ۔فَصَلِّ لِرَبِّكَ وَانْحَرُ۔إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْاَبْتَرُ۔(2) تا 4) سورۃ الکوثر میں ایک بروزی وجود کا وعدہ ہے إِنَّا اعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ میں ایک بروزی وجود کا وعدہ دیا گیا جس کے زمانہ میں کوثر ظہور میں آئے گا۔یعنی دینی برکات کے چشمے بہن نکلیں گے اور بکثرت دنیا میں بچے اہل اسلام ہو جائیں گے۔اس آیت میں بھی ظاہری اولاد کی ضرورت کو نظر تحقیر سے دیکھا اور بروزی اولاد کی پیشگوئی کی گئی۔(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 441) حضرت اقدس اور آپ کی جماعت آنحضرت کی اولاد ہے اگر آپ کا سلسلہ آپ سے ہی شروع ہو کر آپ پر ہی ختم ہو گیا تو آپ ابتر ٹھہریں گے معاذ اللہ حالانکہ اللہ تعالی آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرماتا ہے اِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُ یعنی تجھے تو ہم نے کثرت کیساتھ روحانی اولا د عطا کی ہے جو تجھے بے اولاد کہتا ہے وہی ابتر ہے۔آنحضرت ﷺ کا جسمانی فرزند تو کوئی تھا نہیں اگر روحانی طور پر بھی آپ کی اولا د کوئی نہیں تو ایسا شخص خود بتلاؤ کیا کہلا ویگا ؟ میں تو اس کو سب سے بڑھ کر بے ایمانی اور کفر سمجھتا ہوں کہ آنحضرت ﷺ کی نسبت اس قسم کا خیال بھی کیا جاوے۔إِنَّا أَعْطَيْنَكَ الْكَوْثَر کسی دوسرے نبی کو نہیں کہا گیا یہ تو آنحضرت ﷺ کا ہی خاصہ ہے۔آپ کو اس قدر روحانی اولا د عطا کی گئی جس کا شمار بھی نہیں ہوسکتا اس لئے قیامت تک یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔روحانی اولا دہی کے ذریعہ آنحضرت ﷺ زندہ نبی ہیں کیونکہ آپ کے انوار و برکات کا سلسلہ برابر جاری ہے۔اور جیسے اولا د میں والدین کے نقوش ہوتے ہیں اسی طرح روحانی اولاد میں آنحضرت لے کے کمالات اور فیوض کے آثار نشانات موجود ہیں۔الْوَلَدُ سِرُّ لَا بِیهِ۔(ملفوظات جلد چہارم صفحہ 433) یہ جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو فرمایا إِنَّا أَعْطَيْنكَ الْكَوْثَرَ (الکوثر: 2) یہ اس وقت کی بات ہے کہ ایک کافر نے کہا کہ آپ کی اولاد نہیں ہے۔معلوم نہیں اس نے ابتر کا لفظ بولا تھا جواللہ تعالیٰ نے فرمایا إِنَّ شَانِئَكَ هُوَ الْابْتَرُ۔(الکوثر: 3) تیرا دشمن ہی بے اولا در ہے گا۔