حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 189
189 الدجال سے مراد یہود و نصاریٰ ہیں کتاب اللہ کو کھول کر دیکھ لو وہ فیصلہ کرتی ہے؟ پہلی ہی سورۃ کو پڑھو جو سورۃ فاتحہ ہے جس کے بغیر نماز بھی نہیں ہو سکتی دیکھو اس میں کیا تعلیم دی ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْر الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ - اب صاف ظاہر ہے کہ اس دعا میں مغضوب اور ضالین کی راہ سے بچنے کی دعا ہے۔مغضوب سے بالا تفاق یہودی مراد ہیں اور ضالین سے عیسائی۔اگر اس اُمت میں یہ فتنہ اور فساد نہ پیدا ہونے والا تھا تو پھر اس دعا کی تعلیم کی کیا غرض تھی؟ سب سے بڑا فتنہ تو الدَّجال کا تھا مگر یہ نہیں کہا کہ وَلَا الدَّجال کیا خدا تعالیٰ کو اس فتنہ کی خبر نہ تھی ؟ اصل یہ ہے کہ یہ دعا بڑی پیشگوئی اپنے اندر رکھتی ہے ایک وقت امت پر ایسا آنے والا تھا کہ یہودیت کا رنگ اس میں آجاوے گا اور یہودی وہ قوم تھی جس نے حضرت مسیح کا انکار کیا تھا پس یہاں جو فرمایا کہ یہودیوں سے بچنے کی دعا کرو۔اس کا یہی مطلب ہے کہ تم بھی یہودی نہ بن جانا یعنی مسیح موعود کا انکار نہ کر بیٹھنا۔اور ضالین یعنی نصاری کی راہ سے بچنے کی دعا جو تعلیم کی تو اس سے معلوم ہوا کہ اس وقت صلیبی فتنہ خطرناک ہوگا۔اور یہی سب فتنوں کی جڑ اور ماں ہو گا دجال کا فتنہ اس سے الگ نہ ہوگا۔ورنہ اگر الگ ہوتا تو ضرور تھا کہ اس کا بھی نام لیا جاتا۔الحکم 21 فروری 1993 ، صفحہ 2 ) ( تفسیر حضرت اقدس سورۃ فاتحہ جلد 1 صفحہ 321) اللہ تعالیٰ نے ہم کو سورۃ فاتحہ میں یہ دعا سکھائی۔کہ اے خدا نہ تو ہمیں مغضوب علیہم میں سے بنائیو اور نہ ضالین میں سے۔اب سوچنے کا مقام ہے کہ ان ہر دو کا مرجع حضرت عیسی ہی ہیں مغضوب علیہم وہ قوم ہے جس نے حضرت عیسی کے ساتھ عدوات کرنے اور ان کو ہر طرح سے دکھ دینے میں غلو کیا اور ضالین وہ لوگ ہیں جنہوں نے ان کے ساتھ محبت کرنے میں غلو کیا اور خدائی صفات ان کو دے دیئے۔صرف ان دونو کی حالت سے بچنے کے واسطے ہم کو دعا سکھلائی گئی ہے اگر دجال ان کے علاوہ کوئی اور ہوتا۔تو یہ دعا اس طرح سے ہوتی کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الدَّجَّال - یہ ایک پیشگوئی ہے جو کہ اس زمانہ کے ہر دو قسم کے شر سے آگاہ کرنے کے واسطے مسلمانوں کو پہلے سے خبر دار کرتی ہے۔یہ عیسائیوں کے مشن ہی ہیں جو کہ اس زمانہ میں ناخنوں تک زور لگارہے ہیں کہ اسلام کو سطح دنیا سے نابود کر دیں اسلام کے واسطے یہ سخت مضر ہور ہے ہیں۔( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 58 57) قرآن شریف سے مستنبط ہوتا ہے کہ اس امت پر دوزمانے بہت خوفناک آئیں گے ایک وہ زمانہ جوابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد آیا اور دوسرا وہ زمانہ جود جالی فتنہ کا زمانہ ہے جو سیح کے عہد میں آنیوالا تھا جس سے پناہ مانگنے کے لئے اس آیت میں اشارہ ہے غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ اور اسی زمانہ کے لئے یہ پیشگوئی سورۃ نور میں موجود ہے۔وَلَيُبَةِ لَنَّهُم مِّنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًا۔(النور: 56) اس آیت کے معانی پہلی آیت کیساتھ ملا کر یہ ہیں کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس دین پر آخری زمانہ میں ایک زلزلہ آئے گا اور خوف پیدا ہو جائے گا کہ یہ دین ساری زمین پر سے گم نہ ہو جائے۔تب خدا تعالی دوبارہ اس دین کو روئے زمین پر متمکن کر دے گا اور خوف کے بعد امن بخش دے گا۔لیکچر لاہور۔رخ جلد 20 صفحہ 187)