حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن

by Other Authors

Page 190 of 975

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تعلیم فہم قرآن — Page 190

190 سورۃ الفاتحہ کا مقصود اعلیٰ مسیح موعود اور ان کی جماعت کی ترقی کی خبر ہے سورۃ فاتحہ میں ایک مخفی پیشگوئی موجود ہے اور وہ یہ کہ جس طرح یہودی لوگ حضرت عیسی کو کافر اور دجال کہہ کر مَغْضُوبِ عَلَيْهم بن گئے بعض مسلمان بھی ایسے ہی بنیں گے۔اسی لئے نیک لوگوں کو یہ دعا سکھلائی گئی کہ وہ منعم علیہم میں سے حصہ لیں اور مغضوب علیہم نہ بنیں سورۃ فاتحہ کا اعلیٰ مقصود مسیح موعود اور اس کی جماعت اور اسلامی یہودی اور اُن کی جماعت اور ضالین یعنی عیسائیوں کے زمانہ ترقی کی خبر ہے سوکس قدر خوشی کی بات ہے کہ وہ باتیں آج پوری ہوئیں۔نزول المسیح۔رخ جلد 18 صفحہ 415،414) قرآن نے اپنے اول میں بھی مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ (الفاتحہ ) اور ضَا لَّينَ (الفاتحہ) کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے آخر میں بھی جیسا کہ آیت لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ بصراحت اس پر دلالت کر رہی ہے اور یہ تمام اہتمام تاکید کے لئے کیا گیا اور نیز اس لئے کہ تا مسیح موعود اور غلبہ نصرانیت کی پیشگوئی نظری نہ رہے اور آفتاب کی طرح چمک اٹھے۔(تحفہ گولر ویہ۔رخ جلد 17 صفحہ 222) حضرت اقدس کا ذکر قرآن کریم کے اول و آخر میں خلاصہ کلام یہ ہے کہ آیت تَبَّتْ يَدَا أَبِى لَهَب جو قرآن شریف کے آخر میں ہے، آیت مَغْضُوبِ عَلَيْهِمُ کی ایک شرح ہے جو قرآن شریف کے اول میں ہے کیونکہ قرآن شریف کے بعض حصے بعض کی تشریح ہیں۔پھر اس کے بعد جو سورۃ فاتحہ میں وَلَا الضَّالین ہے اس کے مقابل پر اور اس کی تشریح میں سورۃ تبت کے بعد سورۃ اخلاص ہے میں بیان کر چکا ہوں کہ سورۃ فاتحہ میں تین دعائیں سکھلائی گئی ہیں (1) ایک یہ دعا کہ خدا تعالیٰ اُس جماعت میں داخل رکھے جو صحابہ کی جماعت ہے اور پھر اس کے بعد اس جماعت میں داخل رکھے جو مسیح موعود کی جماعت ہے جن کی نسبت قرآن شریف فرماتا ہے۔وَآخَرِينَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوبِهِم (الجمعة: 4) غرض اسلام میں یہی دو جماعتیں منعم علیہم کی جماعتیں ہیں اور انہی کی طرف اشارہ ہے آیت صِرَاط الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمُ میں کیونکہ تمام قرآن پڑھ کر دیکھو جماعتیں دو ہی ہیں۔ایک صحابہ رضی اللہ عنہم کی جماعت۔دوسری وَاخَرِينَ مِنْهُمْ کی جماعت جو صحابہ کے رنگ میں ہے اور وہ مسیح موعود کی جماعت ہے۔پس جب تم نماز میں یا خارج نماز کے یہ دعا پڑھو کہ اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ علیہم تو دل میں یہی محوظ رکھو کہ میں صحابہ اور مسیح موعود کی جماعت کی راہ طلب کرتا ہوں۔یہ تو سورۃ فاتحہ کی پہلی دعا