تحقیقِ عارفانہ — Page 624
۶۲۴ سمجھایا گیا ہو اور وہ اس سے شفاء یاب ہو گیا ہو۔پس برق صاحب کی مندرجہ بالا نکتہ چینی چیلینج کے مقابلہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔یہ چیلنج اپنی جگہ پر قائم ہے۔66 ۱۰ : - أَرَدْتُ زَمَانَ الزَّلْزَلَةِ “ تتمہ حقیقۃ الوحی صفحه ۱۵۸ طبع اول) اس الہام پر برق صاحب لکھتے ہیں :- کیا آپ کا مطلب یہ ہے کہ آپ زلزلوں کے زمانہ میں جانا چاہتے ہیں یا اُس زلزلہ کے زمانہ کو لمبا کرنا چاہتے ہیں یا اس کو سزادینا چاہتے ہیں۔آخر جو کچھ کرنا تھا اس کا ذکر تو اس الہام میں آجانا چاہیے تھا تا کہ ایہام نہ پیدا ہوتا۔“ (حرف محرمانہ صفحہ ۴۰۲) الجواب الہام کا مضمون واضح ہے۔اس میں کوئی ابہام نہیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے زلزلوں کے زمانے کا ارادہ کیا ہے۔یعنی اب زلزلوں کا زمانہ آرہا ہے۔پس اردت زَمَانَ الزَّلْزَلَةِ سے مراد اَرَدتُ آتيَانَ زَمَانَ الزَّلْزَلَةِ يا مَجَيَ زَمَانَ الزَّلْزَلَةِ ہے۔پس زمان کا لفظ بحذف مضاف استعمال ہوا ہے۔جیسے کہ آئت قرآنیہ 66 " إن تنصروا الله يَنصُرُكُمْ " (محمد : ۸) میں اللہ کا لفظ محذف مضاف استعمال ہوا۔اور مضاف اس کا لفظ دین ہے۔ای اِن تَنصُرُوا دِینَ اللہ۔یعنی اگر تم اللہ کے دین کی مدد کرو۔کیونکہ اللہ تو کسی کی مدد کا محتاج نہیں اور دین کو البتہ مدد کی احتیاج ہوتی ہے۔پھر قرآن شریف میں وارد ہے۔إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْا اَنْ يَقُولَ لَهُ كُنْ فَيَكُونُ - (يس : ٨٣) اس آیت میں اَرَادَ فعل کے بعد شیا سے پہلے ان مختلق محذوف ہے۔اور معنی یہ ہیں کہ خدا کا کام یہ ہے کہ جب وہ ارادہ کرتا ہے کہ کسی شمی کو پیدا کرے تو اسے محسن کہتا ہے اور وہ ہو جاتی ہے۔