تحقیقِ عارفانہ — Page 50
مستقل نبی ہو) پس ان کے نزدیک امتی نبی کی آمد میں آیت خاتم النعیین روک نہیں لہذا حديث لَوْ عَاشَ لَكَانَ صِدِيقًا نَبِيًّا کے متعلق برق صاحب کا یہ بیان غلط ہے کہ یہ روایت " محض غلط ہے۔کیونکہ یہ حدیث نہ قرآن کریم کی آیات کے خلاف ہے اور نہ احادیث نبویہ کے خلاف ہے۔آیات قرآنیہ سے تو ہم نبی کی آمد کا امکان ثابت کر چکے ہیں۔لہذا احادیث نبویہ میں صرف ایسی نبوت کا انقطاع مراد ہے جو تشریعی یا مستقلہ نبوت ہو۔نبوت مطلقہ کا انقطاع ہر گز مراد نہیں بلکہ نبوت مطلقہ ایک امتی کو مل سکنے کا امکان احادیث میں موجود ہے۔برق صاحب نے کسی کا یہ قول بھی درج کیا ہے۔ولو قضى بعد محمد نبى عاش ابنه ولكن لا نبي بعده مگر یہ قول ہر گز درست نہیں (کو اس میں لا نبی بعدہ سے مراد تشریعی نبوت کا ہی انقطاع ہے۔کیونکہ اس قول سے یہ لازم آتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کے صاحبزادہ ابراہیم کو اس لئے مار دیا کہ کہیں وہ نبی نہ بن جائے۔پھلا اگر خدا تعالی کو یہ ڈر ہوتا تو وہ صا حبزادہ ابراہیم کو پیدا ہی کیوں کرتا ! حدیث لا نبی بعدی کی تشریح علماء کے نزدیک یہی ہے کہ آئندہ کوئی تشریعی نبی آنحضرت مے کے بعد نہیں آسکتا۔چنانچہ اقتراب الساعۃ صفحہ ۱۶۲ میں امام علی القاری کے ایک قول مندرجہ الاشاعۃ فی اشراط الساعۃ کے مطابق لکھا ہے :- وَحَى بَعْدَ مَوتِی بے اصل ہے ہاں لا نبی بعدی آیا ہے اس کے معنی نزدیک اہل علم کے یہ ہیں کہ میرے بعد کوئی نبی شرع ناسخ نہیں لائے گا۔“ پس فقہائے امت کے نزدیک حدیث لا نبی بعدی میں نئی شریعت لانے والے نبی کا اقتطاع مراد ہے۔یہ ہر گز مراد نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد مطلق کوئی نہیں ہو گا۔چنانچہ شیخ اکبر حضرت محی الدین ابن عربی علیہ الرحمۃ انقطاع نبوت کے