تحقیقِ عارفانہ — Page 51
۵۱ مضمون بے مشتمل احادیث کی تشریح میں لکھتے ہیں :- " إِنَّ النُّبُوَّةَ الَّتِي انْقَطَعَتْ بِوَجُودِ رَسُولِ اللهِ مَا إِنَّمَا هِيَ نبوة التشريع نُبُوَّةُ لَا مَقَامُهَا فَلَا شَرُعَ يَكُونُ نَاسِحًا لِشَرْعِهِ لا وَلَا يَزِيدُ فِي شَرْعِهِ حُكْمًا آخر وهذا معنى قَوْلِهِ ﷺ إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِي وَلَا نَبِيٍّ - أى لا نَبِيَّ يَكُونُ عَلَى شَرع يُخَالِفُ شَرِعَى بَلْ أَذْكَانَ يَكُونُ تَحْتَ حَكَم (فتوحات مکیہ جلد ۲ صفحه ۷۳ ) شریعتی ،، ترجمہ : وہ نبوت جو آنحضرت ﷺ کے وجود باجود پر منقطع ہوئی ہے وہ صرف تشریعی نبوت ہے نبوت کا مقام منقطع نہیں۔اب آئندہ کوئی شریعت نہ ہو گی جو آنحضرت ﷺ کی شریعت کو منسوخ کرے یا آپ کی شریعت میں کسی حکم کا اضافہ کرے اور یہی معنی ہیں آنحضرت ﷺ کے اس قول کے إِنَّ الرَّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قدِ انْقَطَعَتْ فَلَا رَسُولَ بَعْدِئُ وَلَا نَبِيَّ مراد آپ کی یہ ہے کہ کوئی ایسا نبی نہیں ہو گا جو میری شریعت کے خلاف شریعت رکھتا ہو بلکہ آئندہ جب بھی کوئی نبی ہوگا تو وہ میری شریعت کے حکم کے ماتحت ہو گا۔“ امام بخاری خود اپنی صحیح میں دو حدیثیں لائے ہیں جن میں ابن مریم کے نزول کی خبر دی گئی ہے اور ان میں سے ایک حدیث میں امت محمدیہ میں سے اسے امت کا امام قرار دیا گیا ہے اور دوسری حدیث میں لیس بینی وینه نبی کے الفاظ میں اسے نبی قرار (دیکھو صحیح بخاری باب بدء الخلق) دیا گیا ہے۔برق صاحب کی ضعیف حدیث ف حديث لَوْ كَانَ بَعْدِى نَبِي لَكَانَ عُمَر کو امام ترندی نے خود غریب قرار دیا ہے اس لئے یہ روایت صرف ایک ہی راوی مشرح من ہامان کے طریقہ سے مروی