تحقیقِ عارفانہ — Page 598
۵۹۸ استعمال موجود ہے۔۱۴ - برق صاحب ایک عبارت یوں نقل کرتے ہیں :- اگر چہ یہ بات قابل تسلیم ہے۔جو ہر سال میں ہماری قوم کے ہاتھ سے بے شمار روپیہ منام نہاد خیرات و صدقات کے نکل جاتا ہے۔“ (دیباچہ براہین صفحه ب) اس پر یہ اعتراض کیا گیا ہے کہ ”جو " اور " میں " کا استعمال غلط ہے اور بنام پریہ (حرف محرمانه صفحه ۳۸۴) نہاد مہمل ہے۔الجواب حضرت اقدس کا پرانا اسلوب بیان یہ تھا کہ کہ " کی جگہ اس کے ہم معنے " لفظ ”جو “ استعمال فرمایا کرتے تھے۔اور وقت کے ساتھ ” میں “ کا استعمال بھی پرانا اسلوب ہے بنام نہاد میں ”ب“ زائد تزئین کلام کے لئے ہے۔اور پرانے لوگوں کا یہ اسلوب تھا۔کہ عبارت میں ” کے لانے کے ساتھ ”ب“ بھی استعمال کرتے تھے۔اس قسم کی تراکیب سر سید احمد خان مرحوم کے کلام میں بھی موجود ہیں۔مثلاً وہ لکھتے ہیں :- الف : - بذریعہ ایک ڈیوٹیشن کے۔(جائے ایک ڈیوٹیشن کے ذریعے) ب :- بہ نسبت سابق کے۔(بجائے بہ نسبت سابق) (بجائے نمونہ کے طور پر ) ج :- بطور نمونہ کے۔و :- میرے پاس بذریعہ ڈاک کے۔(جائے ڈاک کے ذریعے) (مکتوبات سر سید احمد خان) پس نام نہاد پرانی اردو زبان کے لحاظ سے قابل اعتراض نہیں۔۱۵ - پھر برق صاحب یہ عبارت پیش کرتے ہیں۔”دوسرے تو ایسا دل و دماغ ہی نہیں رکھتے جو اسکی فلاسفری تقریر کو سمجھ