تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 597 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 597

۵۹۷ نے اپنے حواریوں کو نصیحت کی تھی کہ تم نے آخر کا منتظر رہنا۔“ اس عبارت کے سیاق سے ظاہر ہے۔کہ آخر کا منتظر رہنا“ سے۔”سب سے آخر میں آنے والے“ کا منتظر رہنا مراد ہے۔پس اس عبارت میں کوئی ابہام نہیں۔صرف جناب برق صاحب نے اعتراض کی خاطر اسے مہم بنانے کے لئے ادھوری عبارت پیش کی ہے۔تاکہہ سکیں سمجھے ؟ ۱۳ - برق صاحب ایک عبارت یوں درج کرتے ہیں :- " جب دجال کے زمانہ میں دن لمبے ہو جائیں گے تو تم نے نمازوں کا (ازالہ صفحہ ۷ ۶۸) اندازہ کر لیا کرتا۔“ برقی صاحب نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا صرف تو تم نے نمازوں کا اندازہ کر لیا کرنا کے نیچے لائن کھینچ دی۔گویا یہ عبارت آپ کے نزدیک قابل اعتراض ہے۔(حرف مجرمانه صفحه ۳۸۳) پوری عبارت یوں ہے :- د بعض یہ شبہ پیش کرتے ہیں۔کہ ایک سوال کے جواب میں آنحضرت ﷺ نے یہ فرمایا تھا۔کہ جب دجال کے زمانہ میں دن لمبے ہو جائیں گے۔یعنی برس کی مانند یا اس سے کم تو تم نے نمازوں کا اندازہ کر لیا کرنا۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو انسی ظاہری معنوں پر یقین تھا۔اس کا جواب یہ ہے کہ یہ صرف فرضی طور پر ایک سوال کا جواب حسب منشا سائل دیا گیا تھا۔اور اصلی واقعہ کا بیان مه کر نامد عانہ تھا۔بلکہ آپ نے صاف صاف فرما دیا تھا کہ سائر آیا میہ کا یا مکم" اگر برق صاحب کو عبارت میں " تم نے اندازہ کر لیا کرنا " میں " نے " کے " استعمال پر اعتراض ہے تو انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ پنجاب میں آجتک نے کا