تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 599 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 599

۵۹۹ سکیں۔(براہین صفحه ۱۹۵) اس عبارت میں فلاسفر پر یائے نسبت لگا کر فلاسفر کے لفظ کو صفت نسبتی بنایا گیا ہے۔اور یہ لفظ فلسفیانہ کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔اور یہ امر بالکل جائز ہے۔کہ کسی اسم پر یائے نسبتی لگا کر اسے صفت بنا دیا جائے سر سید مرحوم نے بھی بعض الفاظ ایجاد کئے ہیں۔جیسے " تم بڑے بڑے عمامہ والے۔شمعل " شملوں والے۔پھر برق صاحب یہ شعر پیش کرتے ہیں :- اب سال سترہ بھی صدی سے گذر گئے تم میں سے ہائے سوچنے والے کدھر گئے (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۴۱) اس پر یہ اعتراض کیا ہے۔سترہ (۱۷) تشدید کے بغیر ہے۔الجواب جناب برق صاحب اپنے آپ کو خواہ مخوالو اردو دان سمجھ بیٹھے ہیں۔اہل زبان تو سترہ کو معد وہی بولتے اور پڑھتے ہیں۔۱۷ : - پھر برق صاحب نے ایک مصرع درج کیا ہے :- " چھوڑتے ہو دیں کو اور دنیا کو کرتے ہو پیار۔“ اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ دیں میں اعلان نون ضروری ہے۔پیار کی یا غیر ملفوظہ ہوتی ہے۔اور تقطیع کے وقت پیار صرف پار رہ جاتا ہے۔مگر یہاں ملفوظہ ہے۔الجواب جن اساتذہ نے اپنے پر یہ پابندی عائد کرنی ہے کہ عطف واضافت کے بغیر اخفائے نون نہیں کریں گے۔وہی اس قاعدہ کے پابند ہیں۔ورنہ میر اور سوداء سے لیکر