تحقیقِ عارفانہ — Page 569
۵۶۹ حُرمَت عَلَيْكُمْ أُمَّهَتُكُمْ وَبَنتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمْتُكُمْ وَخَلتُكُمْ وَبَنتُ الاخ وبنت الأخت وأمهتكُمُ التَى أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوتُكُم مِّنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَّا لِبُكُمُ الَّتِي فِي حُجُورٍ كُم مِّن نِّسَا تِكُمُ الَّتى دَعَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِن لَّمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمُ بِهِنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ ، وَحَلَائِلُ ابْنَا ئِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلاَ بِكُمُ وأن تَجْمَعُوا بَيْنَ الأَعْتَيْنِ إِلا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ غَفُورًا رَّحِيمًاه (سورة النساء ۲۴) دیکھئے اس آیت قرآنیہ میں بارہ دفعہ واؤ بمعنی اور کا تکرار ہوا ہے اب کیا کوئی سلیم الفطرت مسلمان کہ سکتا ہے کہ واو عاطفہ کا یہ تکرار محل فصاحت ہے ؟ اس ایک آیت میں "بارہ دفعہ “ واو بمعنی اور کا تکرار ہوا ہے اور حضرت اقدین کے قول میں صرف چھ دفعہ " اور کا تکرار دکھایا گیا ہے۔پھر اردو کے عناصر خمسہ میں سے سر سید کا کلام ملاخطہ ہو :- وہ لکھتے ہیں :- سویلیزیشن سے مراد ہے انسان کے تمام افعال اور اخلاق اور معاملات اور طریقہ ء تمدن اور صرف اوقات اور علوم اور ہر قسم کے فنون اعلیٰ درجہ کی عمدگی تک (مقالات سرسید ) پہنچانا۔“ دیکھا برق صاحب آپ نے کہ حضرت اقدس کے زمانہ میں اور کا سمرار دوسرے ادیبوں کے کلام میں بھی موجود تھا۔اور اسے فصاحت کے خلاف نہیں سمجھا جاتا تھا ؟ دیکھئے اس عبارت میں بھی ”اور “ کا چھ دفعہ تکرار موجود ہے۔توالی اضافات برق صاحب کو حضرت اقدس کی مندرجہ ذیل تراکیب میں