تحقیقِ عارفانہ — Page 521
۵۲۱ میر اطواف کرنے لگا۔“ (تذکرۃ الاولیاء باب ۱۴ صفحه ۱۲۲) ۱۰ - برق صاحب لکھتے ہیں :- بتایا۔66 الجواب پانچ مارچ ۱۹۰۵ء کو خواب میں ایک فرشتہ دیکھا جس نے اپنا نام پیٹی ٹیچی (حقیقۃ الوحی صفحہ ۳۳۲ بجائے صفحہ ۲۳۲) برق صاحب کی درج کردہ عبارت محرف مبدل ہے اصل عبارت یوں ہے :- ایک دفعہ مارچ ۱۹۰۵ء کے مہینے میں بوقت قلت آمدنی لنگر خانہ کے مصارف میں بہت دقت ہوئی کیونکہ کثرت سے مہمانوں کی آمد تھی اور اس کے مقابلہ پر آمدنی کم۔اس لئے دعا کی گئی۔پانچ مارچ ۱۹۰۵ء کو میں نے خواب میں دیکھا کہ ایک شخص جو فرشتہ معلوم ہوتا تھا میرے سامنے آیا اور اس نے بہت سا روپیہ میرے دامن میں ڈال دیا۔میں نے اس کا نام پوچھا۔اس نے کہا کہ نام کچھ نہیں۔میں نے کہا آخر کچھ تو نام ہو گا۔اس نے کہا میر انام ہے بیٹھی۔“ اس کے بعد حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- بیٹی پنجابی زبان میں وقت مقررہ کو کہتے ہیں یعنی مین ضرورت کے وقت پر آنے والا۔تب میری آنکھیں کھل گئی۔بعد اس کے خدا تعالی کی طرف سے کیا ڈاک کے ذریعہ سے اور کیا براہ راست لوگوں کے ہاتھوں سے اس قدر مالی فتوحات ہو ئیں جن کا خیال و گمان نہ تھا اور کئی ہزار روپیہ آگیا۔چنانچہ جو شخص اس کی تصدیق کے لئے صرف ڈاک خانہ کے رجسٹر ہی پانچ مارچ ۱۹۰۵ء سے اخیر سال تک دیکھے اس کو معلوم ہو گا کہ کس قدر روپیہ آیا تھا۔“ اس عبارت سے ظاہر ہے کہ خواب میں نظر آنے والے شخص نے جو فرشتہ معلوم ہو تا تھا اپنا نام ٹیچی نیچی نہیں بتایا تھا بلکہ اپنا اصل نام پو چھا جانے کے جواب میں (حقیقۃ الوحی صفحه ۳۳۲)