تحقیقِ عارفانہ — Page 338
پیشگوئیوں کے اصول اس کے بعد برق صاحب نے حضرت اقدس کی بعض پیشگوئیوں پر پیشگوئیوں کے اصول کو نظر انداز کر کے نکتہ چینی کی ہے۔ذیل میں اختصار کے ساتھ بعض اصول درج کر دئے جاتے ہیں جن کو پیشگوئیوں پر غور کرتے ہوئے مد نظر رکھنا ضروری ہوتا ہے۔اسلامی اصول فقہ میں یہ تسلیم کیا گیا ہے :- ا إِنَّ جَمِيعَ الوَعِيدَاتِ مَشْرُوطَةُ بِعَدَمِ الْعَفْوِ فَلَا يَلْزَمُ مِنْ تَرْكِهِ دُخُولُ الْكَذِبِ فِي كَلَامِ اللَّهِ۔( تفسیر کبیر امام رازی جلد ۲ صفحه ۴۰۹ مصری) ترجمہ : بیشک وعیدی پیشگویاں معاف نہ کیا جانے کی شرط سے مشروط ہوتی ہیں۔پس اگر ان کا پورا کرنا (معاف کر دینے کی وجہ سے ) ترک کر دیا جائے تو اس سے خدا تعالیٰ کے کلام کا جھوٹا ہونا لازم نہیں آتا۔حضرت انس سے ایک حدیث مروی ہے۔اِنَّ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَنْ وَعَدَهُ الله عَلَى عَمَلِهِ ثُوَا بَا فَهُوَ مُنْجِرُ لَهُ وَ مَنْ اَوْ عَدَهُ عَلَى عَمَلِهِ عِقَابِاً فَهُوَ بِالْخِيَارِ - ( تفسیر روح المعانی جلد ۲ صفحه ۵۵ مصری) ترجمه : بیشک نبی ﷺ نے فرمایا اگر خدا تعالی انسان کے کسی عمل پر کسی ثواب (انعام) کا وعدہ کرے تو اسے پورا کرتا ہے اور جس شخص سے اس کے کسی عمل پر عذاب کی وعید کرے تو اسے اختیار ہے۔(یعنی چاہے تو پورا کرے چاہے تو معاف کردے)