تحقیقِ عارفانہ — Page 339
۳۳۹ ۲- دعا سے نقد میر رد ہو جانے کے متعلق حدیث نبوی میں وارد ہے۔اَكْثِرُ مِنَ الدُّعَاءِ فَإِنَّ الدُّعَاءَ يَرُدُّ القَضَاءَ المُبْرَمَ - (کنز العمال جلد اول صفحہ ۶۷ او جامع الصغیر مصری جلد ا صفحه ۵۴) ترجمہ :- کثرت سے دعا کرو کیونکہ دعا تقدیر مبرم کو بھی ٹال دیتی ہے۔إِنَّ النبي ﷺ قَالَ إِنَّ الصَّدَقَةَ لَتَدْفَعُ الْبَنَاءَ المُبْرَمَ النَّازِلَ مِنَ السَّمَاءِ روض الریاضین بر حاشیه قصص الانبیاء صفحه ۳۶۴) ترجمہ : بے شک نبی ﷺ نے فرمایا بے شک صدقہ آسمان سے نازل ہو نیوالی میبرم (ابظاہر ائل) کو بھی رد کر دیتا ہے۔صلى الله۔کبھی نبی سے کلام الہی کے سمجھنے میں اجتہادی خطاواقع ہو جاتی ہے۔رسول اللہ علی فرماتے ہیں :- رأيتُ فِى الْمَنَامِ اِنّى أَهَا جِرُ مِنْ مَكَّةَ إِلَىٰ أَرْضِ ذَاتِ نَخْلٍ فَذَهَبَ وَهْلِى أَنَّهَا الْيَمَا مَةُ وَالحِجُرُ فَإِذَا هِيَ مَدِينَةُ يَشُربَ - ترجمہ :۔میں نے خواب میں دیکھا کہ میں مکہ سے ایک کھجوروں والی زمین کی طرف ہجرت کر رہا ہوں۔اس پر میرا خیال (اجتہاد ) یمامہ یا حجر کی طرف گیالیکن اچانک وہ زمین مدینہ میٹرب نکلی۔-۴- رویا تعبیر طلب ہوتی ہے چنانچہ تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحہ ۱۲۱ میں لکھا ہے :- اسماعیلی نے کہا کہ اہل تعبیر نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے خواب میں اسید من الی العیص کو مسلمان ہونے کی حالت میں مکہ کا والی دیکھا۔وہ تو کفر پر مر گیا۔اور رویاء اس کے بیٹے عتاب کے حق میں پوری ہوئی۔“ ۵- لوح محفوظ کی قضائے مبرم بھی مل سکتی ہے۔چنانچہ امام ربانی حضرت مجدد الف ثانی تحریر فرماتے ہیں :-