تحقیقِ عارفانہ — Page 337
۳۳۷ الهام ويَنْصُرُكَ رِجَالُ نُوحِي إِلَيْهِمُ مِنَ السَّمَاءِ۔کہ دور دراز سے تمہارے پاس تحائف آئیں گے۔جن کے لانیوالوں سے راستہ میں گڑھے پڑ جائیں گے اور دور دور سے لوگ تمہارے پاس آئینگے جن سے راستہ میں گڑھے پڑ جائیں گے۔اور وہ آدمی تیری مدد کریں گے جنہیں ہم آسمان سے وحی کرینگے۔یہ لاکھوں بار پورے ہوئے۔ہر شخص جو آپ کے پاس آیا ہے۔اور ہر تحفہ جو وہ لایا ہے اور ہر وہ شخص جو الہام سے آپ کی مدد پر آمادہ ہوا ہے وہ ایک نشان ہے۔اور اس طرح یہ نشانات لاکھوں کی تعداد میں پورے ہو گئے ہیں۔قبولیت دعا کے نشانات اس کے علاوہ ہیں۔عذاب اور ہلاکت کی پیشگوئیاں بھی لاکھوں افراد کی ہلاکت پر مشتمل ہیں۔ہزار بایا ایک لاکھ سے زیادہ نشانات یا تین لاکھ نشانات ذکر کرنے میں مذکورہ حقیقت کو مد نظر رکھ کر کوئی تناقض نہیں۔کیونکہ مقصود صرف بڑی کثرت تعداد میں نشانات کے ظاہر ہونے کا اظہار ہے۔پوری معین تعداد بتلانا مقصود نہیں۔چنانچہ ہر زبان کے محاورات میں اس قسم کا استعمال عام ہے۔اور مقصد کثرت بتلانا ہوتی ہے۔مثلاً ہم روز مرہ کی گفتگو میں کہتے ہیں کہ میں نے اسے سو دفعہ منع کیا ہے یا مجھ پر ہزاروں مصیبتیں آئیں۔تو اس سے مراد تعداد کی کثرت ہوتی ہے۔معین تعداد مراد نہیں ہوتی۔