تحقیقِ عارفانہ — Page 325
۳۲۵ پھر برق صاحب نے آخر میں لکھا ہے کہ :- کہ یہ ہیں زنیم واثیم کے معانی لغایت عرب میں نہ جانے یہ زناکار اور ولد الترنا کے مفاہیم آپ نے کہاں سے لئے ؟ الجواب (حرف محرمانه صفحه ۲۴۳) اس عبارت میں دو اعتراض ہیں ایک زبان کی شکلی کے متعلق اور دوسرا اعتراض معتد اثیم اور زنیم کے معنی کے متعلق۔زنا، زانی اور زانیہ کے الفاظ جب قرآن کریم میں موجود ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لاتقربوا الزنا۔نیز فرمایا الزاني لا يَنكِحُ الأَزَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً۔پھر مومنوں کی شان میں فرمایا ہے کہ ولا يَزْنُونَ کہ وہ زنا کار نہیں ہوتے۔حقیقت یہ ہے کہ ان الفاظ کا قرآن کریم میں استعمال اور دشنام نہیں ہوا بلکہ حقیقت کے اظہار کے لئے ہے۔اس لئے انہیں شنگی بیان کے خلاف قرار نہیں دیا جا سکتا۔لہذا اگر حقیقت کے اظہار کے لئے قرآن مجید کے ترجمہ میں زناکار اور ولد الترنا کے الفاظ بیان ہوں تو ان کا استعمال بھی شستگی کے خلاف نہیں ہو گا۔دوسرے اعتراض کے متعلق ہمارا جواب یہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ نے زیر بحث آیت کا لفظی ترجمہ نہیں کیا بلکہ تفسیری ترجمہ تحریر فرمایا ہے۔برق صاحب کو یہ غلطی لگی ہے کہ حضرت اقدس نے لفظ اشیم کے معنی زناکار کئے ہیں۔وہ ذرا آنکھیں کھول کر ترجمہ ملاحظہ کریں تو انہیں معلوم ہو گا اس جگہ معتد اٹیم کے دونوں لفظوں کا اکٹھا تفسیری ترجمہ زناکار کیا گیا ہے نہ کہ خالی اثیم کے لفظ کا ترجمہ۔وہ دیکھ سکتے ہیں کہ اس ترجمہ میں لفظ معتد کے کوئی الگ معنی نہیں کئے گئے۔چنانچہ اس جگہ مناعِ لِلْخَيْرِ کے معنی کئے گئے ہیں۔نیکی کی راہوں سے روکنے والا اور معتد اٹیم کا ترجمہ کیا گیا ہے زناکار اور اگلے لفظ عقل کا ترجمہ کیا گیا ہے۔نہایت درجہ بد خلق اور