تحقیقِ عارفانہ — Page 324
i ۳۲۴ اللہ کا ظہور بھی ایک قسم کی قیامت ہوتا ہے۔جس میں روحانی مردوں اور مد ہوشوں کو نئی زندگی ملتی ہے۔پس حضرت مسیح موعود کی اس تفسیر کے ذکر میں بیان کردہ معارف کی قدر وہی شخص کر سکتا ہے۔جو قرآن کے ظاہر کے علاوہ اس کے بطن کا بھی قائل ہوں۔برق صاحب غالباً قرآن کریم کو صرف ظاہر میں منجھر سمجھتے ہیں۔سو یہ قرآن مجید کے متعلق ان کی اپنی کو تاہ ضمی ہے۔حضرت اقدس کا فہم قرآن برق صاحب کی ایسی نکتہ چینی سے اپنی شان میں بہت بلند ہے " اعتراض چهارم چو بشنوی سخن اہل لی مگو که خطا است سخن شناس نه دلبر اخطا اینجا است آيت "مَنَّاعٍ لِلْخَيْرِ مُعْتَدٍ أَثِيمٍ عُتُلٍ بَعْدَ ذَالِكَ زَنِيمٌ (القلم : ۱۴۱۳) کاترجمہ ازالہ اوہام جلد اول صفحہ ۱۶ اطبع اوّل سے برق صاحب یوں نقل کرتے ہیں :- نیکی کی راہوں سے روکنے والا زناکار اور بائیں ہمہ نہایت درجہ کابد خلق اور وو سب مینوں کے بعد ولد الز ہ بھی ہے۔“ پھر برق صاحب اس کے متعلق لکھتے ہیں :- آپ نے اثیم کے معنی زناکار اور زنیم کے معنی ولد الزنا کئے ہیں سوال پیدا ہوتا ہے کیا قرآن کا مصنف یعنی اللہ اس طرح کی بشستہ زبان استعمال کیا کرتا تھا۔اور کیا کوئی مہذب انسان اس انداز گفتگو کی برداشت کر سکتا ہے۔إِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْم یہ قرآن کی آیت ہے کیا آپ اس کی تفسیر یہ کریں گے کہ بعض ظن زنا ہیں اور پھر الزنیم کے متعلق لکھا ہے کہ اس کے معنی لعین اور الدگی (متبنى ( اللاحق بقوم ليس (حرف محرمانه صفحه ۲۴۳) مِنْهُمْ وَلَا هُمْ يَحْتَاجُونَ إِلَيْهِ ہیں۔