تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 326 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 326

۳۲۶ آخری الفاظ بعد ذالك زنیم کا ترجمہ کیا گیا ہے۔اور سب عیبوں کے بعد ولد الزنا بھی۔ترجمہ کی اس ترتیب سے صاف ظاہر ہو رہا ہے کہ اس میں معتد اٹیم کا ترجمہ زناکار کیا گیا ہے اٹیم کے معنی گناہ گار اور معتد کے معنی حد سے بڑھنے والا۔اور حد سے بڑھنے والے گناہ گار کے تفسیری معنی آپ نے زناکار بیان فرمائے ہیں۔اور اس میں کوئی شک نہیں کہ قرآنی تعلیم کے مطابق زنا کا فعل گناہ کے ارتکاب میں حد سے بڑھنا ہی ہے۔برق لصاحب نے زنیم کے ترجمہ پر اس کے لغوی معنوں کے لحاظ سے اعتراض کیا ہے۔اور اس کے معنی از روئے لغت الدعى اللاحِقُ بِقَوْمٍ لَيْسَ مِنْهُمْ لَکھ کر اس جگہ یہ دعوی کیا ہے کہ زنیم کا ترجمہ ولد الزنا درست نہیں۔غالبا برق صاحب نے اپنی تحقیق میں عربی زبان کی المنجد " جیسی چھوٹی سی لغت کی کتاب ہی سامنے رکھی ہے۔کاش وہ حضرت اقدس کے ترجمہ پر اعتراض کرنے سے پہلے عربی لغت کی بڑی کتابوں سے بھی اس لفظ کے متعلق تحقیق کر لیتے۔تا انہیں وہ شرمندگی نہ اٹھانی پڑتی۔جواب ہماری تحقیقات کو سننے کے بعد اٹھانی پڑے گی۔محترم برق صاحب! واضح ہو کہ عربی لغت کی کتاب لسان العرب میں جو کئی ضخیم جلدوں میں مصر میں شائع ہوئی ہے۔زنیم کے لفظ کے ماتحت یہ بھی لکھا ہے۔" والزَّنْيمُ وَلَدًا لعَيْهَرَة " کہ زنیم کے معنی ہیں زانیہ عورت کا لڑکا۔اسی کتاب میں لفظ عمر کے تحت لکھا ہے۔عهر اليَهَا۔۔۔۔أَنَا هَا لَيْلاً لِلْفُجُورِ ثُمَّ غَلَبَ عَلَى الزِّنَاءِ مُطلَقاً وَقِيلَ هِيَ ŵ الفُجُورُ أَيَّ وقت كانَ فى الحُرِّةِ وَ الْاَمَةِ يُقَالُ لِلمرء والفَاجِرَةِ عَاهِرَةُ مُعَاصِرَةٌ وَ مُسَافِحَه۔۔وَ قَالَ أَحْمَدُ وَ قَالَ أَحْمَدُ بنُ يَحْى والمُبرِّد هِيَ العَيْهَرَةُ لِلفَاجَرَة قَالَا وَالْيَاءُ فِيهَا زَائِدَةٌ وَالأَصل عَهْرُ -