تحقیقِ عارفانہ — Page 250
۲۵۰ حضرت اقدس کے نزدیک انگریزی حکومت ہر گز دجال اکبر نہ تھی۔آپ نے اسے کسی جگہ دجال اکبر قرار نہیں دیا۔دوم آپ ہی وہ پہلے رسول نہیں ہیں جنہوں نے قوم کو غیر حکومت کے ماتحت پر امن رہنے کی تعلیم دی۔بلکہ آپ سے پہلے حضرت عیسی کا طرز عمل بھی یہی تھا۔وہ رومن حکومت کے ماتحت جو مشرکوں اور مت پرستوں کی حکومت تھی۔نہ کہ اسرائیلی حکومت زندگی بسر کرتے رہے۔اور انہوں نے اس حکومت کے خلاف کوئی اقدام نہیں کیا تھا۔اور نہ قوم کو اس کی مخالفت کی تعلیم دی تھی۔بلکہ ان کے خلاف علماء یہود نے مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی کی طرح از راہ ظلم اور شرارت قیصر کی حکومت کا باغی ہونے کا الزام لگا کر انہیں حکومت سے قتل کی سزاد لانا چاہی تھی۔الزام یہ تھا کہ یہ خود کو یہودیوں کا بادشاہ کہتا ہے۔حضرت عیسی نے پیلاطوس رو می گورنر کی عدالت میں صاف کہہ دیا کہ میری بادشاہت اس دنیا کی نہیں یعنی میرا دعوی روحانی باد شاہت کا ہے نہ سیاسی بادشاہت کا۔اس پر پلا طوس یہ سمجھ گیا کہ ان پر بغاوت کا الزام محض جھوٹا ہے جو ازراہ مذہبی عداوت و کینه توزی لگایا گیا ہے۔پھر مکہ مکرمہ میں ہمارے رسول مقبول ﷺ نے بھی قریش کی قبائلی صلى الله حکومت کے خلاف کوئی جارحانہ اقدام نہیں کیا۔بلکہ ان کا ظلم و ستم سہتے رہے اور جب قریش کی طرف سے نا امید ہو کر آپ طائف میں تبلیغ اسلام کے لئے تشریف لے گئے تو وہاں سے واپسی پر قریش کی ظالم حکومت نے آپ کے شہریت کے حقوق ہی غصب کر لئے اور مکہ مکرمہ میں آپ کو داخلہ کی اجازت نہ دی۔اس پر آپ نے اپنے علاقائی قانون کو توڑا نہیں بلکہ ایک مشرک حاتم بن عدی کی پناہ میں آپ مکہ میں داخل ہوئے اور شہریت کے حقوق حاصل کئے۔پھر جب قریش کا ظلم انتہا کو پہنچ گیا اور انہوں نے آپ کے اعدام (قتل) کا منصوبہ کیا تو خدا تعالٰی سے اس کی اطلاع پاکر اس کے حکم کے