تحقیقِ عارفانہ

by Other Authors

Page 249 of 710

تحقیقِ عارفانہ — Page 249

۲۴۹ نسبت گورنمنٹ عالیہ کے معزز حکام نے ہمیشہ مستحکم رائے سے اپنی چٹھیات میں یہ گواہی دی ہے کہ وہ قدیم سے سر کار انگریزی کے پکے خیر خواہ اور خدمت گذار ہیں۔اس خود کاشتہ پودا کی نسبت نہایت حزم اور احتیاط اور تحقیق اور توجہ سے کام لے۔“ اشتهار ۲۴ فروری ۱۸۹۸ء صفحه ۱۸۰ مندرجه تبلیغ رسالت جلد ہفتم) پس جماعت احمدیہ کے خلاف برق صاحب کا یہ تاثر پیدا کرنا کہ وہ انگریزوں کی خود کاشتہ ہے۔ایک غلیظ غلط بیانی ہے انگریزی گورنمنٹ تو شروع دعوئے مهدویت سے آپ کو اور آپ کی جماعت کو مشتبہ نظروں سے دیکھ رہی تھی اور مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی وغیرہ نے گورنمنٹ کے شبہ کو مزید تقویت دینے کی کوشش کی تھی۔تو کون عظمند یہ خیال کر سکتا ہے کہ حضرت اقدس جماعت احمدیہ کو انگریزوں کا خود کاشتہ پودا قرار دے سکتے تھے۔ہاں آپ کے خاندان نے سکھوں کے اثر کے زوال میں انگریزوں کو جو مدد دی تھی۔آپ اس کا ذکر کر کے گورنمنٹ کو اس امر کی طرف توجہ دلا ر ہے ہیں کہ میرا خاندان جب تمہار او فادار رہا ہے تو پھر میں کس طرح تمہاری حکومت کے متعلق باغیانہ خیالات رکھ سکتا ہوں اور ایک ایسی جماعت بنا سکتا ہوں جس کو میں کسی وقت گورنمنٹ انگریزی کے خلاف استعمال کرنے کا ارادہ رکھتا ہوں۔جماعت کو نمک پروردہ ان معنوں میں قرار دیا ہے کہ وہ گور نمنٹ کی اس مذہبی آزادی کی ممنون ہے جو گورنمنٹ نے ہندوستان کی سب قوموں کو دے رکھی تھی۔برق صاحب کی اس تحریف کے ذکر کے بعد ہم پھر برق صاحب کے اصل سوال کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو یہ ہے کہ :- انبیاء کی تاریخ میں جناب مرزا صاحب وہ پہلے رسول ہیں جنہوں نے قوم کو غلامی کا درس دیا اور غلامی بھی دجال اکبر کی۔“ (حرف محرمانه صفحه ۱۸۲) جناب برق صاحب کی یہ بات محض ان کا ظلم عظیم ہے کیونکہ اول تو