تحقیقِ عارفانہ — Page 185
۱۸۵ جگہ صرف یہ بیان فرمارہے ہیں۔کہ ۱۳۱۱ھ میں جب کہ آپ کا دعویٰ موجود تھا۔نشان کے طور پر رمضان میں کسوف خسوف ہوا جو از روئے حدیث دار قطنی امام مہدی کی علامت تھا۔حضور یہ نہیں بیان فرمار ہے کہ میں نے لا۱۳ ھ میں دعویٰ کیا ہے بلکہ یہ فرما رہے ہیں کہ آپ کے دعوئی کے وقت یعنی دعویٰ کی موجودگی میں یہ نشان ظاہر ہوا۔پس برق صاحب کا یہ استدلال محض بچوں کا ایک کھیل ہے جو وہ حضرت اقدس کی عبارتوں سے کھیلنا چاہتے ہیں۔انہوں نے اس استدلال میں اپنے کسی علمی کمال کا اظہار نہیں کیا بلکہ ایک عامیانہ طرز کا اعتراض کر دیا ہے جس پر اگر وہ خود ٹھنڈے دل سے غور فرمائیں تو انہیں اپنے اس اعتراض پر فنسی آئے گی کہ مجھ سے یہ کیا حرکت سرزد ہوئی ؟ دوسرا حوالہ اسی نمبر میں برق صاحب نے حاشیہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۷ طبع اوّل سے درج کیا ہے۔جو یہ ہے :- دانیال نبی بتاتا ہے کہ اس نبی آخر الزمان کے ظہور سے جب بارہ سو نوے (۱۲۹۰) برس گذر جائیں گے تو وہ مسیح موعود ظاہر ہو گا اور تیرہ سو پینتیس ہجری تک اپنا کام چلائے گا۔“ (حاشیہ تحفہ گولڑویہ صفحہ ۷ الطبع اوّل) اس عبارت کے آخر میں حضرت اقدس تحریر فرماتے ہیں :- دي اب دیکھو اس پیشگوئی میں کس قدر تصریح سے مسیح موعود کا زمانہ چودھویں صدی قرار دی گئی ہے۔اب بتاؤ کیا اس سے انکار کرنا ایمانداری ہے ؟“ ظاہر ہے کہ دانیال نبی کی اس پیشگوئی سے حضرت اقدس مسیح موعود کے چودھویں صدی میں ظہور کے متعلق استدلال فرمارہے ہیں اور یہ بات اپنی جگہ بالکل درست ہے کہ دانیال نبی کی اس پیشگوئی سے ۱۲۹۰ ھ سے ۱۳۳۵ھ کا زمانہ مسیح موعود